سانحہ ہیڈ چھناواں کے شہدا کی گیارہویں برسی، فضا سوگوار
المناک سانحہ پر دلیر سپوتوں کو خراج عقیدت، پسماندگان کی آنکھیں اشکبار
علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر)سانحہ ہیڈ چھناواں کے شہدا کی گیارہویں برسی منائی گئی، شہدائے وطن کی یاد میں علاقے کی فضا سوگوار، دلیر سپوتوں کو بھرپورخراج عقیدت پیش، پسماندگان کی آنکھیں آج بھی اشکبار،علی پورچٹھہ کے قریب نہر لوئر چناب پر پیش آنے والے المناک سانحہ ہیڈ چھناواں کو گیارہ برس بیت گئے ، مگر اس دلخراش حادثے کے زخم آج بھی اہل علاقہ، شہدا کے اہل خانہ اور پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 2 جولائی 2015کو پاک فوج کی خصوصی ٹرین پنوں عاقل سے کھاریاں کینٹ جا رہی تھی۔ ٹرین میں یونٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عامر جدون اپنی اہلیہ اور دو بچوں سمیت، میجر عادل، کیپٹن کاشف، صوبیدار، لانس نائیک، سپاہیوں اور دیگر فوجی اہلکاروں سمیت تقریباً 200 افراد سوار تھے ۔ جب ٹرین علی پورچٹھہ ریلوے سٹیشن سے آگے ہیڈ چھناواں کے قریب نہر لوئر چناب پر ریلوے پل سے گزر رہی تھی تو انجن پٹری سے اتر گیا۔ ٹرین دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور دو بوگیاں نہر میں جا گریں، جس سے ہر طرف چیخ و پکار، آہ و بکا اور قیامت صغریٰ کا منظر برپا ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی پاک فوج، ریسکیو 1122، پولیس اور مقامی شہری بڑی تعداد میں جائے حادثہ پر پہنچ گئے ۔
امدادی کارروائیاں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔ اس اندوہناک سانحے میں پاک فوج کے 19 افسر اور جوان وطن پر قربان جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہو گئے تھے ۔ گیارہ برس گزرنے کے باوجود سانحہ ہیڈ چھناواں کی تلخ یادیں اہل علاقہ کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اس ریلوے پل کے قریب سے گزرتے ہیں تو انہیں اس المناک دن کی چیخیں، زخمیوں کی فریادیں اور امدادی سرگرمیوں کے مناظر یاد آ جاتے ہیں۔انہوں نے شہداکوخراج عقیدت پیش کرتے کہا وطن کی سلامتی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ عظیم سپوت قوم کا فخر ہیں۔ انکی لازوال قربانیاں ہمیشہ تاریخ کے سنہری اوراق میں محفوظ رہیں گی اور آئندہ نسلوں کیلئے جذبئہ ایثار، وفا اور حب الوطنی کی روشن مثال بنی رہیں گی۔ آخر میں شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔