پاکستان میں گرین انرجی کا عمل سست روی کا شکار:شفقت محمود
سستے متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہوگا،چیئرمین پاکستان انویسٹر فورم
گجرات(سٹی رپورٹر )چیئرمین پاکستان انویسٹر فورم شفقت محمود دھول نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور امیر ممالک تیزی کے ساتھ گرین انرجی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں گرین انرجی اور خصوصاً الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کا عمل ابھی سست روی کا شکار ہے ۔ پاکستان کو بھی عالمی رجحانات کے مطابق فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے سستی، ماحول دوست اور درآمدی ایندھن کا متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک مہنگے روایتی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے تیزی سے سستی اور ماحول دوست توانائی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک چین میں بھی گرین انرجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وہ توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے ۔ امیر ترین ممالک بھی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرول اور دیگر مہنگے ایندھن کے بجائے الیکٹرک اور گرین انرجی کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں۔چوہدری شفقت محمود دھول نے کہا کہ دنیا میں گرین انرجی کا دائرہ صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ الیکٹرک گاڑیوں، الیکٹرک موٹرسائیکلوں اور دیگر شعبوں میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ پاکستان میں اگرچہ الیکٹرک بائیکس کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے ، تاہم الیکٹرک کاروں اور دیگر الیکٹرک وہیکلز کے حوالے سے عوام کا رجحان ابھی مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments