نازک موڑ

وطن عزیز کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ ہمیشہ ایک نازک دور سے گزر رہا ہوتاہے‘ اور ہمیشہ یہ نازک دور عوام اور ملک کیلئے ہوتا ہے‘ حکمرانوں اور اشرافیہ کیلئے تو پاکستان ایک شب دیگ ہے جو پکے جا رہی ہے اور اُن میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ تاریخ نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب یہاں ایسے لوگوں کو بھی حکمرانی ملی جنہیں پاکستانی شناختی کارڈ‘ برسوں بعد پاکستان آنے پر ایئرپورٹ پر ہاتھ میں تھمایا گیا تھا۔ یہ سب فیصلہ سازوں کے کرشمے ہیں۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں‘ مگر کوئی اس ملک کی اونرشپ لینے کو تیار نہیں۔ باہر سے لوگ یہاں حکمرانی کیلئے آتے ہیں اور اپنی مدت ختم ہونے پر اپنے اصل ملک لوٹ جاتے ہیں‘ جہاں ان کے بچے ہیں اور جہاں ان کی جائیدادیں ہیں۔ جب یہ ملک بنایا گیا تھا تو خواب ایک اسلامی فلاحی ریاست کا تھامگر ہم اب بھی اس تعبیر سے کوسوں دور ہیں۔ عوام پہلے محنت مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی کھا لیا کرتے تھے مگر اب بجلی‘ پٹرول اور اشیائے خورونوش کی بلند قیمتوں کی وجہ سے دن رات محنت کے باوجود ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل کھا پاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ اس مہنگائی کے دور میں ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جب جوان بچوں کو ہاتھوں میں سی وی لیے نوکری کیلئے سفارش ڈھونڈتے دیکھتی ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ ملک میں میرٹ سسٹم موجود کیوں نہیں ہے۔ کاش کہ تعلیم کے ساتھ بچوں کو ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ بھی دی جاتی‘ اور پڑھائی مکمل ہوتے ہی ان کو اگر نوکری نہ بھی ملتی تو وہ کسی ہنر سے کما لیتے۔ مگر ایسا نہیں ہے! بچے دربدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ ماں باپ اپنی جمع پونجی لگا کر ان کو باہر بھیجنا چاہتے ہیں مگر اس چکر میں کچھ نوجوان ایجنٹ نما انسانی سمگلروں کے ہاتھ چڑھ کر موت کی وادی میں اُتر جاتے ہیں‘ تو کچھ کو کاغذات مکمل ہونے کے باوجود ایئرپورٹ پر آف لوڈ کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں اس افراتفری‘ مہنگائی‘ معاشی بدحالی‘ ناانصافی اور میرٹ کی پامالی کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہاں جمہوریت کو کبھی پھلنے پھولنے نہیں دیا گیا۔ طویل مارشل لاء‘ وزیراعظم کا اپنی مدت پوری نہ کرنا‘ سیاستدانوں کی آپسی چپقلش‘ اقربا پروری‘ موروثیت‘ انتخابات میں عدم تسلسل اور دھاندلی‘ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہم اب تک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نہیں آ سکے ہیں۔
حال ہی میں مجھے پی آئی اے میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ جہاز میں سکرینیں نہیں چل رہی تھیں‘ سیٹوں کے کور پھٹے ہوئے تھے اور انٹرنیٹ بھی نہیں تھا۔ کچھ معلوم نہیں تھا کہ ہم کہاں فلائی کر رہے ہیں اور جو حال باتھ رومز کا تھا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ مجھے بہت رنج ہوا کہ اگر پی آئی اے کی عالمی فلائٹ کا یہ حال ہے تو لوکل پرواز کیسی ہوگی۔ خبروں کے مطابق اب پی آئی اے میں نئی بھرتیاں ہو رہی ہیں اور عملے کیلئے نیا یونیفارم بنایا جا رہا ہے ۔ کیا اس کا کوئی فائدہ ہوگا؟ جواب ہے نہیں! جب تک جہاز اَپ گریڈ نہیں ہوں گے‘ وہاں سہولتیں مہیا نہیں کی جاتیں‘ عملے کا ڈیزائنر یونیفارم کسی کام کا نہیں ہے۔ پی آئی اے کے جہاز میں آپ فون اور پاور بینک استعمال نہیں کر سکتے۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اب میں کیا کروں۔ سکرین تو چل نہیں رہی‘ نیٹ ہے نہیں‘ سامنے نقشہ بھی نظر نہیں آ رہا‘ سفر کیسے کٹے گا۔ بعض لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جو سفر کے آغاز میں سو جاتے ہیں اور منزل پر پہنچ کر اٹھتے ہیں۔ کچھ میرے جیسے ہوتے ہیں جو اچھی نیند کی نعمت سے محروم ہیں۔ شکر ہے کہ میرے پاس کتاب تھی‘ اس کے سہارے سفر کٹ گیا۔ دیگر ممالک کی ایئرلائنز میں ہمہ وقت انٹرنیٹ‘ سکرینز اور موویز موجود ہوتی ہیں۔ انہی سکرینز کی مدد سے قبلے کا رخ بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ دنیا بھر کے شہروں کا وقت اور تلاوت کیلئے قرآنِ پاک موجود ہوتا ہے۔ عملہ مسکرا کر چائے‘ کافی دے رہا ہوتا ہے اور تحائف اس کے علاوہ ہیں۔ کیا ہم پاکستان کی ایئرلائنز پر ان سب سہولتوں کے مستحق نہیں ہیں؟ جس ملک کے حکمران خود اربوں کے جہاز میں سفر کرتے ہوں‘ اس ملک کی کمرشل ایئرلائنز کیوں نہیں ٹھیک ہو سکتیں؟ اس سوال میں ہی جواب چھپا ہواہے۔ حکمران خود تو سرکاری طیارے استعمال کرتے ہیں۔ اپنے سفر کو آرام دہ رکھنے کیلئے جدید جہاز اور مہنگی گاڑیاں سرکاری خزانے سے خرید لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو کب تک نظر انداز کیا جائے گا؟ کچھ کام عوام کیلئے بھی ہو جائے‘ وہ بھی ٹیکس کے بدلے کچھ مراعات کے مستحق ہیں۔ اگر ملک میں حقیقی جمہوریت ہوتی‘ وزیراعظم کو پانچ سال مکمل کرنے دیے جاتے‘ ایک حکومت تسلسل سے عوامی منصوبوں پر کام کرتی تو آج ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ سڑک بنانا‘ پل بنانا یا انڈر پاس تعمیر کرنا ترقی نہیں ہے۔ ترقی قانون و انصاف‘ آزادیٔ رائے‘ مساوی حقوق‘ تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا نام ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت ہے‘ وہاں عوام کے نمائندے عوام کے فیصلے کرتے ہیں۔ ترقی کی سب سے پہلی شرط قانون اور انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون سب کیلئے یکساں ہو‘ ایک وزیر کیلئے بھی وہی قواعد ہوں جو ایک ریڑھی والے کیلئے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے اس وقت نہ آئیں جب سائل وفات پا گیا ہو۔ بروقت انصاف ملنا چاہیے۔ پولیس اور تھانے خوف کی علامت نہ ہوں‘ وہاں جا کر انسان انصاف اور تحفظ کی امید رکھے۔
پھر آتی ہے جمہوریت‘ جو اصلی اور شفاف ہونی چاہیے۔ حکومتیں عوام کے ووٹوں سے بنیں‘ فارم 45 میں تبدیلی کر کے عوام کو ان کے اصل نمائندے سے محروم نہ کیا جائے۔ پارلیمان کو سپریم ہونا چاہیے۔ اسی طرح تعلیم عام اور مفت ہونی چاہیے۔ پرائمری سے بچوں کو کمپیوٹر جیسے مضامین پڑھائے جائیں۔ اس کے ساتھ علاقائی زبانیں اور مقامی ثقافت کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے۔ ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم دی جائے۔ جاپان نے اپنی معیشت ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم سے کھڑی کی ہے۔ اسی طرح مقامی چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔ لوگوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے خود کاروبار شروع کر کے لوگوں کو نوکریاں فراہم کریں۔ ان کو آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں۔ برآمدات پر توجہ دی جائے۔ ہم پاکستان سے بہت کچھ برآمد کر سکتے ہیں‘ جس میں چینی‘ گندم‘ کپاس‘ کپڑا اور قیمتی دھاتیں اور پتھر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘ آئی ٹی ایکسپرٹ‘ نرسز‘ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنی خدمات دنیا بھر میں فراہم کر سکتا ہے۔ ملک میں سیاسی تسلسل ہونا چاہیے۔ ایک پالیسی کو کم از کم دس سال چلنے دیا جائے اور سیاسی انتقام کا خاتمہ کیا جائے۔ ایک بھی معاشی پلان اگر دس سال تک چل گیا تو اس کا معیشت کو بہت فائدہ ہوگا۔ ٹیکس کا نظام درست کرنا ہوگا‘ صرف نوکری پیشہ نہیں سبھی طبقات ٹیکس دیں‘ خصوصاً اشرافیہ اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس دے۔ قرضوں کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے‘ اس کو حکومت اپنی نمود و نمائش پر نہ خرچ کرے۔ عوام پر سے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو اے آئی‘ کوڈنگ‘ گرافک ڈیزائننگ کی طرف لے کر جانا ہوگا۔ ہم زرعی ملک ہیں لیکن غلط فیصلوں کی وجہ سے ہر سال گندم اور چینی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ ہمیں دوبارہ سے زراعت کو فروغ دینا ہوگا‘ اس کے ساتھ اپنے قیمتی پانی کو بھی ضائع ہونے سے بچانا ہو گا۔ اگر ہم اپنے پانی کی قدر نہیں کریں گے تو یہ سیلاب بن کر ضائع ہوتا رہے گا۔
اس وقت معاشرے میں انتہاپسندی بڑھتی جا رہی ہے۔ خواتین اور بچوں پر ایسے ایسے ظلم ہو رہے ہیں کہ انسان دنگ رہ جائے۔ سڑکوں پر ڈکیت لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام ہے۔ ہمیں جرائم پر قابو پانے کیلئے انصاف کو عام کرنا ہوگا‘ معاشی حالات بہتر کرنا ہوں گے۔ جیسے ہم تمام تر مشکلات کے باوجود معرکہ حق میں سرخرو ہوئے‘ اسی طرح ہمیں معاشی میدان میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ جب ہم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت کھٹے کر سکتے ہیں تو ہم اپنے ان مسائل کا حل بھی نکال سکتے ہیں‘ بس ایک مؤثر جمہوری قیادت کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...