پیداواری اخراجات میں اضافہ ،بھٹہ انڈسٹری برباد ہونے لگی
لاگت میں اضافہ سے کاروبار کرنا دشوار ، لاکھوں افراد کے روز گار ہونے کا خدشہ حکومت کوئلہ ،بھٹہ انڈسٹری سے جڑی دیگر اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرے :نصر اللہ خان
پنڈی بھٹیاں (نامہ نگار )بھٹہ انڈسٹری تبا ہی کے دھانے پر پہنچ گئی،پیداواری اخراجات میں روز بروز اضافہ سے کاروبار جاری رکھنا دشوار ہو گیا ۔ان خیالات کا اظہار بھٹہ خشت ایسوسی ایشن تحصیل پنڈی بھٹیاں کے صدر محمد نصراللہ خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹہ انڈسٹری جس سے لاکھوں افراد کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں اور لاکھوں افراد کا اس انڈسٹری سے روز گار وابستہ ہے جو تبا ہی کے دھانے پر پہنچ چکی ،اگر حکومت نے توجہ نہ دی تو اندسٹری بند ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ روز بروز کوئلہ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کرائے بڑھ رہے ہیں ،لیبر کی اجرت اور دیگر اخراجات میں اضافہ سے اینٹوں کی تیاری کے اخراجات میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ مارکیٹ کے پختہ اینٹ کے ریٹ سے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہو رہے ، ایسے حالات میں کاروبار کیسے چلایا جاسکتا ہے ، اوپر سے حکومت کے اس انڈسٹری کیساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک سے کاروبار چلانا ناممکن ہو گیا ، ان حالات میں مجبوراً بھٹے بند کرنا پڑیں گے جس سے لاکھوں لوگوں کے بے روز گار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری کوئلہ کی گرانی اور بھٹہ انڈسٹری سے جڑی دیگر اشیا کو کنٹرول کرنا ہوا ورنہ ملک میں بے روز گاری میں اضافہ اور انڈسٹری بھی تباہ ہوجائیگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments