نویں، دسویں کے امتحان میں نقل کرنیوالے طلبا کے نام مشتہر
نام، رولنمبر، سزاؤںکے نوٹیفکیشن پر والدین اور طلبہ میں سخت تشویش ناجائز ذرائع استعمال کرنیکا یہ مطلب نہیں کہ طلبہ کو خود کشیوں پر مجبور کیا جائے، ماہرین تعلیم
اسلام آباد (ماہتاب بشیر) وفاقی تعلیمی بورڈ کی جانب سے سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ کے سالانہ امتحانات 2026کے نتائج کے ساتھ ناجائز ذرائع استعمال کرنے والے طلبہ کے نام، رول نمبرز اور سزاؤں پر مشتمل نوٹیفکیشن بھی جاری کیے جانے پر تعلیمی حلقوں، والدین اور طلبہ میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی اور شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنانا ہر تعلیمی بورڈ کی ذمہ داری ہے، تاہم نابالغ یا کم عمر طلبہ کے نام، رول نمبرز اور دیگر شناختی معلومات کو سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے عام کرنا بچوں کے حقوق، رازداری اور ان کی ذہنی صحت کے حوالے سے تشویشناک امر ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پارٹ ون میں چو بیس اور پارٹ ٹو میں باسٹھ طلبا و طالبات امتحانات میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے میں ملوث پائے گئے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان بچوں کے نام مشتہر کر کے انہیں خود کشیوں پر مجبور کیا جائے ، ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ ایسے فصلوں سے بچے دلبرداشتہ ہو سکتے ہیں ۔ وفاقی تعلیمی بورڈ ،کنٹرولر امتحانات اس نوٹی فکیشن کو فی الفور واپس لیں۔
اور مستقبل میں اس عمل سے گر یز کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments