سماجی شعبہ کی ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا، بلال اظہر کیانی
وسائل اور اختیارات کو لوکلائر کرنے سے نچلی سطح پربہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)پاکستان میں بڑھتے ہوئے مالی دبا ئواور سماجی شعبے کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر حکومت، اقوام متحدہ اور پالیسی ماہرین نے صحت، تعلیم، غذائیت اور سماجی تحفظ کے لئے متبادل اور مشترکہ مالیاتی ذرائع بروئے کار لانے پر زور دیا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ زکوۃ، خیرات، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، موسمیاتی فنانس اور سوشل بانڈز سرکاری مالی اعانت کا متبادل نہیں بلکہ اس کے معاون ہونے چاہئیں۔اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور یونیسیف پاکستان کے زیر اہتمام، جی آئی زیڈ کے تعاون سے فنانسنگ دی فیوچر: پاکستان کے سماجی شعبے کیلئے مربوط مالیاتی حکمتِ عملی کے موضوع پر منعقدہ اعلی سطح کی پالیسی رانڈ ٹیبل میں کیا گیا۔ تقریب میں فنانسنگ دی فیوچر اقدام اور اس کی ویب سائٹ کا اجرا بھی کیا گیا۔وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا کہ متبادل مالیاتی ذرائع کو پہلے محدود پیمانے پر آزمانے کے بعد شفاف انداز میں چلایا اور نتائج کا سخت جائزہ لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اخراجات میں اضافے اور ان کی شفاف رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔انہوں نے وفاقی ترقیاتی پروگرام اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں میں بہتر رابطے ، منصوبوں کی تکرار روکنے اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments