فالج کے تقریباً 80 فیصد کیسز سے بچاؤ ممکن ،طبی ماہرین
مریضوں کو ساڑھے چار گھنٹے کے اندر مخصوص انجکشن کے ذریعے علاج فراہم کیا جا سکتا
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ فالج ایک سنگین بیماری ہے جس سے نہ صرف مریض بلکہ اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ، تاہم بروقت تشخیص، فوری طبی امداد اور جدید علاج کے ذریعے معذوری اور اموات کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔فالج کے تقریباً 80 فیصد کیسز سے بچاؤ ممکن ہے ، جس کے لیے بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے ، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ضرورت ہے ۔فالج سے متعلق آگاہی کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر حسنین ہاشم،ڈاکٹر یاسر محمود ملک اور ڈاکٹر ولید شہزادنے کہا کہ فالج کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کو فوری طور پر ایسے ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے جہاں اسٹروک کے علاج کی سہولت موجود ہو۔ دماغی شریان میں خون کا لوتھڑا بننے کی صورت میں بعض مریضوں کو ساڑھے چار گھنٹے کے اندر مخصوص انجکشن کے ذریعے علاج فراہم کیا جا سکتا ہے ، جبکہ منتخب مریضوں میں مکینیکل تھرومبیکٹومی کے ذریعے لوتھڑا نکالنے کا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments