مفت و معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری،منعم ظفر
حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے تعلیمی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیاسندھ میں 78لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں،امیر جماعت اسلامی کراچی
کراچی (این این آئی)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کی شق اے 25کے تحت ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلا امتیاز مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے ، مگر بدقسمتی سے ریاست بالخصوص حکومت سندھ میں اپنی یہ آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے ۔صوبہ سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 78 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکاری تعلیمی نظام نہ صرف ناکام ہو چکا ہے بلکہ حکمرانوں کی عدم توجہی اور ناقص پالیسیوں نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔منعم ظفر خان نے کہا کہ اس وقت صوبے میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے 65 فیصد سے زائد تعلیمی بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ حکومت کے برعکس مکمل طور پر اپنے مالی فرائض بھی ادا کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ اسکول کرایہ ادا کرتے ہیں، مختلف ٹیکسز دیتے ہیں، بجلی، گیس اور پانی سمیت تمام یوٹیلٹی بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں آئے روز نت نئے ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو براہ راست اینٹی کرپشن جیسے اداروں کے سامنے جواب دہ بنانا، چھاپے مارنا اور خوف و ہراس پھیلانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔