خواتین آج بھی ظلم ،جبراور ناانصافی کا شکار، زین شاہ
جاگیردارانہ و قبائلی نظام نے عورت کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے کاروکاری ،جبری شادیوں اور جرگہ فیصلوں کیخلاف سخت اقدامات ناگزیر
کراچی(این این آئی)سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی )کے صدر اور کنوینر دریائے سندھ بچاؤ تحریک سید زین شاہ نے کہا ہے کہ 8مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین منایا جا رہا ہے ، مگر بدقسمتی سے پاکستان خصوصا سندھ اور بلوچستان میں خواتین کے حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں عورت آج بھی ظلم، جبر اور ناانصافی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے ۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود عورت کی تقدیر بدلنے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔سید زین شاہ نے اتوار کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سندھ کی عورت آج بھی جاگیردارانہ، قبائلی اور فرسودہ جرگہ سسٹم کی قیدی بنی ہوئی ہے ۔
سرداروں، وڈیروں اور بااثر طبقات نے عورت کو انسانی وجود کے بجائے ایک کمزور مخلوق سمجھ کر اس کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے ۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں عورت کو تعلیم، روزگار، وراثت، صحت اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کئی خاندان اپنی بیٹیوں کی شادیاں صرف اس خوف سے نہیں کرتے کہ کہیں انہیں جائیداد میں حصہ نہ دینا پڑ جائے ، سندھ میں آج بھی کاروکاری کے نام پر قتل، جبری شادیوں اور جرگوں کے ظالمانہ فیصلوں کے ذریعے عورتوں کو زندہ لاش بنا دیا جاتا ہے ۔ایس یو پی کے سربراہ نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست واقعی مہذب کہلانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو روکنا ہوگا۔