پی ایم اے کا صنفی مساوات کیلئے عملی اقدامات کا مطالبہ
میڈیکل شعبے میں 50فیصد خواتین ،اعلیٰ عہدوں پر نمائندگی صرف 7.6فیصدہیلتھ ورکرز کو تشدد اوراجرت میں عدم مساوات جیسے مسائل درپیش ہیں،بیان
کراچی(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے )نے خواتین کے عالمی دن پراس سال کے تھیم حقوق، انصاف، عمل، تمام خواتین اور لڑکیوں کیلئے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اب محض بیان بازی سے نکل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے جسمانی تحفظ اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے ۔پی ایم اے سے جاری بیان انہوں نے کہاکہ حقِ زندگی صنفی مساوات کیلئے پہلی بنیادی شرط ہے ۔پی ایم اے نیشنل جینڈر پیریٹی رپورٹ کے نتائج کی جانب فوری توجہ مبذول کرواتی ہے جو پالیسیوں پر عملدرآمد کے سنگین فقدان کو ظاہر کرتی ہے ،اگرچہ طبی اور فارماسیوٹیکل شعبے میں ابتدائی کیریئر کی سطح پر خواتین کی تعداد تقریبا 50 فیصد ہے لیکن فیصلہ سازی اور اعلی قیادت کے عہدوں پر ان کی نمائندگی محض 7.6 فیصد ہے ،51 فیصد سے زائد ہیلتھ کیئر ورکرز کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں خواتین عملہ خاص طور پر زبانی ہراسانی اور جسمانی دھمکیوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہی عدم تحفظ عملے کی کمی اور نرسنگ شعبے میں شدید بحران کی بڑی وجہ ہے ،یکساں قابلیت کے باوجود خواتین پیشہ ور افراد کو مختلف شعبوں میں مردوں کے مقابلے میں 19 سے 30 فیصد کم اجرت کا سامنا ہے ۔پی ایم اے نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ محض اعلانات کے بجائے ایسے لازمی پروٹوکولز وضع کیے جائیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ریاست جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی نہ کر سکے ۔