ہل پارک اراضی کے تعین کیلئے لینڈ سروے شروع

ہل پارک اراضی کے تعین کیلئے لینڈ سروے شروع

زمین پر قبضہ یا غیرقانونی تعمیرات برداشت نہیں کی جائیں گی،میئر

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)ہل پارک تجاوزات انکوائری کے حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پیش کیا گیا پلاٹ اصل لے آؤٹ پلان میں موجود ہی نہیں ہے ۔کراچی کے تاریخی تفریحی مقام ’’ہل پارک‘‘ کی زمین کے معاملے نے شہر کی سیاست میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ، جس کے باعث پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کے مابین شدید لفظی جنگ اور بیانات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک پر تعمیرات کرنے والے نے پی ای سی ایچ ایس کی لیز دستاویزات پیش کیں۔

اصل لے آؤٹ پلان کے مطابق متنازع پلاٹ نمبر کا کوئی وجود ہی نہیں، 1974 کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس پارک کا مجموعی رقبہ تقریباً 56 ایکڑ پر مشتمل ہے ۔مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کے ایم سی نے پارک کی اراضی کبھی کسی فرد یا ادارے کو الاٹ نہیں کی، اراضی کے تعین اور حقائق جاننے کیلئے کے ایم سی نے باقاعدہ لینڈ سروے شروع کردیا۔میئر کراچی نے متنبہ کیا کہ اگر پی ای سی ایچ ایس نے لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزی کی توسخت کارروائی ہوگی، ہل پارک کی زمین پر قبضہ یا غیرقانونی تعمیرات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کے ایم سی ہل پارک کی اراضی کے تحفظ کیلئے ہرقانونی اور انتظامی اقدام اٹھائے گی،تمام حقائق سامنے لانے کیلئے انکوائری اور سروے جاری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں