حاجی مینشن انہدامی حکم کیخلاف درخواست ، جواب طلب
عدالت نے ایس بی سی اے ، محتسب سندھ ودیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیا غیرقانونی تعمیرات نہیں، صرف مرمت وبحالی کام جاری تھا،درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے تاریخی حاجی مینشن بلڈنگ کی چوتھی منزل کے خلاف صوبائی محتسب سندھ کے انہدامی حکم نامے کو چیلنج کرنے سے متعلق آئینی درخواست پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محتسب سندھ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو شیخ عبدالعلیم کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار شاہراہِ لیاقت پر واقع پلاٹ نمبر اے ایم-1/77، حاجی مینشن بلڈنگ کا قانونی مالک اور رہائشی ہے ۔ درخواست کے مطابق مذکورہ عمارت ایک قدیم اور تاریخی اہمیت کی حامل عمارت ہے جو ہیریٹیج بلڈنگ کے زمرے میں آتی ہے ۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ وقت گزرنے ، موسمی اثرات اور شدید بارشوں کے باعث عمارت کی شہتیریں، گرڈرز، آر سی سی سلیب اور دیگر ڈھانچہ جاتی حصے خستہ حال ہو چکے ہیں جس سے رہائشیوں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں۔ اسی بنا پر عمارت کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مرمت اور بحالی کا کام شروع کیا جو صرف موجودہ ڈھانچے کی مضبوطی اور بحالی تک محدود ہے ۔ درخواست میں کہا گیا کہ مرمتی کام کے دوران بعض سرکاری اہلکار موقع پر پہنچے اور کام رکوا دیا۔ درخواست گزار کے مطابق ایک شہری فیصل احمد نے محتسب سندھ کے پاس شکایت دائر کی۔