گھوٹکی:جیل سے رہائی دلواکر نوجوان کے قتل کا انکشاف
بڑے بھائی نے کزنز کے ساتھ ملکر جاوید پرکلہاڑیوں کے وار کئے ، خفیہ تدفین کردیپولیس کوپتہ چلنے پرلاش قبر سے نکال لی، گھر چھوڑ کرفرار، جاوید نے چچا مبینہ قتل کیا
گھوٹکی (نمائندہ دنیا)عادلپور کے قریب ایک نوجوان کو جیل سے رہائی دلوانے کے بعد قتل کا انکشاف ہوا ہے ، جاوید عرف بانو ولد محمد بخش گڈانی کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔ مقدمے میں مقتول کے بڑے بھائی صدورو گڈانی سمیت سوتیلے بھائیوں صدام، ممتاز، اعجاز اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتول جاوید کو اس کے بڑے بھائی صدورو گڈانی نے اپنے کزنوں کے ساتھ ملکر منصوبہ بندی کے تحت قتل کروایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول جاوید گزشتہ سال اپنے چچا قائم الدین گڈانی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، جس کے بعد مقتول کے سوتیلے بھائیوں نے ، جو قائم الدین گڈانی کے بیٹے بھی ہیں، مبینہ طور پر بدلہ لینے کی نیت سے اسے نشانہ بنایا۔ پولیس حکام کے مطابق جاوید کو جیل سے رہائی دلوانے کے بعد مٹھڑی مائنر کے قریب لے جا کر کلہاڑیوں کے وار سے بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ملزمان نے واردات کے بعد لاش کو گاؤں کیہر مہر کے قبرستان میں خفیہ طور پر دفنا دیا۔ ایس ایچ او عادلپور ظہیر بھٹو کے مطابق پولیس جب اطلاع ملنے پر قبرستان پہنچی تو ملزمان پہلے ہی لاش نکال کر فرار ہو چکے تھے اور اپنے گھر بھی خالی کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد اہم پیش رفت کی توقع ہے ۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس ہے ۔