امریکی تاریخ معاہدوں کی خلاف ورزی سے بھرپور، تنظیم اسلامی
ایران پرپابندیوں کے خاتمے کافائدہ اٹھاکرپاکستان تجارت بڑھائے ، شجاع الدین
دادو (ڈسٹرکٹ ڈیسک)جنگ بندی سمجھوتا خوش آئند، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اپنے مذموم مقاصد سے باز آجائے گا؟ پاکستان ایران پر پابندیوں کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت بڑھائیں اور عوام کو ریلیف دے ۔ مسلم ممالک یہ نہ بھولیں کہ امریکی و اسرائیلی تاریخ معاہدوں کی خلاف ورزی سے بھری پڑی ہے ۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو ایران اور امریکہ کا جنگ بندی کے ایم او یوز MOUs پر اتفاق کرنے پر جشن منانے کے بجائے کڑی نظر رکھنا اور موثر حکمتِ عملی بنانا ہوگی تاکہ آئندہ 60 دنوں کے دوران اسرائیل اور صہیونی نواز قوتوں کو اِس کی خلاف ورزی کرنے سے روکا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر برائے قومی سلامتی تو پہلے ہی اِس سمجھوتے سے اعلانِ برات کر چکے ہیں۔ صیہونی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اسرائیل اپنے اہداف کو حاصل کرنے سے نہیں رکے گا اور جنگ بندی نہیں کرے گا کیونکہ اسرائیل اِس سمجھوتے کا شراکت دار ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اور نائب صدر کے بظاہر اسرائیل مخالف بیانات کو بھی صرف نظر کا دھوکہ ہی سمجھا جائے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ماضی میں بھی معاہدے کرتے اور پھر توڑتے رہے ہیں۔ امریکہ نے ایک طرف 60 روز کیلئے عارضی جنگ بندی کے سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں اور ایم او یوز میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے لیکن عملی طور پر وہ اسرائیل کا مکمل ساتھ دے رہا ہے۔