جیکب آباد:بس اڈہ روڈ تعمیر کا منصوبہ آغاز سے قبل متنازع
غیر معمولی بھرائی کرنے سے املاک سڑک کی سطح سے نیچے ہوجائیں گی، شہریمنصوبے کی منظوری پرسوالات، عوام کے لئے مستقبل میں مسائل ہونگے ، گفتگو
جیکب آباد (نمائندہ دنیا)جیکب آباد شہر میں مشینری مینٹی ننس کی جانب سے بس اڈہ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوتے ہی متنازع ہو گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی غیر معمولی بھرائی سے اطراف کی رہائشی وتجارتی املاک سڑک کی سطح سے نیچے چلی جائینگی، جس سے لوگوں کی اربوں مالیت کی جائیدادوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کی تکنیکی منظوری اور جانچ پڑتال محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کی ذمہ داری ہے ، اسلئے منصوبے کی منظوری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جس سے عوام کے لیے مستقبل میں مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔اس حوالے سے جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترقی و منصوبہ بندی غلام عباس سدھایو، جو اس وقت اسسٹنٹ کمشنر ٹھل بھی ہیں، سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی کا چارج نہیں، نہ ہی مجھے اس بارے میں کوئی علم ہے ۔ خزانہ دفتر والوں نے اپنے ریکارڈ میں درستگی نہیں کی۔جب انہیں بتایا گیا کہ برسوں سے خزانہ دفتر کے ریکارڈ کے مطابق ڈی سی آفس جیکب آباد کے ڈی ڈی او کے ذریعے انہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترقی و منصوبہ بندی کے عہدے پر تنخواہ جاری کی جا رہی ہے تو انہوں نے جواب دیا یہ خزانہ دفتر والوں کی غلطی ہے ۔ میں انہیں کئی بار ریکارڈ درست کرنے کا کہہ چکا ہوں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انکے پاس واقعی اس عہدے کا چارج نہیں تو برسوں سے اس عہدے کے نام پر تنخواہ کس بنیاد پر جاری ہوتی رہی؟