سندھ میں جار کے درختوں کی بے دریغ کٹائی کاسلسلہ جاری
ساحلی وصحرائی اضلاع میں ماحول، چراگاہوں اور جنگلی حیات کوشدید خطرات لاحقایندھن، کوئلہ سازی، زرعی رقبہ بڑھانے کیلئے کٹائی، ماحولیاتی ماہرین کوتشویش
پنگریو (نمائندہ دنیا)ضلع بدین اور تھرپارکر کے صحرائی اور نیم صحرائی علاقوں کی قدرتی شناخت مقامی درخت جار کی مسلسل اور بے دریغ کٹائی نے ماہرین ماحولیات، زرعی ماہرین اور مقامی آبادی میں تشویش پیدا کر دی۔ تحقیقی جائزوں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے ایندھن، کوئلہ سازی، زرعی رقبے میں اضافے ، باڑ بندی، اینٹوں کے بھٹوں میں لکڑی کے استعمال، آبادی کے پھیلاؤ اور کمزور سرکاری نگرانی کے باعث اس درخت کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے ، جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے درختوں کی کٹائی پر پابندی کے باوجود بدین اور تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کٹائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں یہ درخت ان علاقوں سے بڑی حد تک ناپید ہو سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں پورا صحرائی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ ماہرین نباتات کے مطابق جار ایک انتہائی مضبوط اور قدرتی صحرائی درخت ہے جو کم بارش، شدید گرمی، خشک سالی، ریتیلی زمین اور سیم و تھور زدہ علاقوں میں بھی بآسانی نشوونما پاتا ہے ۔ اس کی جڑیں زمین کی گہرائی تک پہنچ کر زیرزمین نمی حاصل کرتی ہیں، جس سے یہ درخت سخت موسمی حالات میں بھی سرسبز رہتا ہے ۔ یہی خصوصیت صحرا کے پھیلاؤ کی رفتار کم کرنے ، ریت کے ٹیلوں کو آگے بڑھنے سے روکنے ، مٹی کے کٹاؤ میں کمی لانے اور زمین میں قدرتی نمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ تحقیقی معلومات کے مطابق جار بدین اور تھرپارکر کی دیہی معیشت کا اہم حصہ بھی ہے۔