ڈیفنس جھگڑے کے متاثرہ بہن بھائی عدالت پہنچ گئے

ڈیفنس جھگڑے کے متاثرہ بہن بھائی عدالت پہنچ گئے

عدالت سے درخشاں تھانے میں درج مقدمہ کالعدم قرار دینے کی استدعاپہلے جارحیت بعد ازاں بااثر افراد کے ایما پر مقدمہ بھی درج کرادیا،وکیل

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈیفنس کے علاقے میں خواتین کے جھگڑے کے معاملے پر تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرہ بہن بھائی نے سندھ ہائیکورٹ اور سیشن عدالت سے رجوع کرلیا۔ خاتون نور العین اور ان کے بھائی علی حسن نے درخشاں تھانے میں مریم رضا کی مدعیت میں درج مقدمے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی، جبکہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی درخواست دائر کردی گئی۔ سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخشاں تھانے میں مریم رضا کی مدعیت میں درج ایف آئی آر غلط، جھوٹی اور غیر قانونی ہے ، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست گزاروں کے وکیل محمد عارف ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف پہلے جارحیت کی گئی، بعد ازاں بااثر افراد کے ایما پر مقدمہ بھی انہی کے خلاف درج کردیا گیا۔ درخواست میں مقدمے کی مدعی مریم رضا، ایس ایچ او درخشاں، تفتیشی افسر، ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور حکومت سندھ کو فریق بنایا گیا ہے ۔ دوسری جانب متاثرہ بہن بھائی نے تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے سیشن عدالت جنوبی سے بھی رجوع کرلیا۔ سیشن عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس نے ان کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا ہے ، تشدد بھی درخواست گزاروں پر کیا گیا اور مقدمہ بھی انہی کے خلاف درج کردیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...