انسداد تجاوزات ٹیم پر حملے کے 37 ملزمان کی ضمانت

انسداد تجاوزات ٹیم پر حملے کے 37 ملزمان کی ضمانت

آغا جعفر کے خلاف فعال کردار سامنے آنے پر درخواست ضمانت مستردشفیق موڑ کے قریب حملے میں ایس ایچ او اور پولیس کانسٹیبل زخمی ہوئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے شفیق موڑ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس اور انتظامیہ پر حملے کے مقدمات میں گرفتار 38 ملزمان میں سے 37 کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ عدالت نے ملزم آغا جعفر کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آغا جعفر کے خلاف فعال کردار سامنے آیا ہے اور اس کے قبضے سے غیر لائسنس یافتہ پستول بھی برآمد ہوا ہے۔ درخواست ضمانت کی سماعت جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ چار الگ الگ درخواست ضمانتوں کو یکجا کرکے فیصلہ سنایا گیا۔ مقدمات تھانہ سمن آباد میں درج کیے گئے تھے۔

پراسیکیوشن کے مطابق 7 اگست کو شفیق موڑ کے قریب تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران ملزمان نے اینٹی انکروچمنٹ ٹیم پر حملہ کیا تھا۔ حملے میں ایس ایچ او عدیل احمد اور پولیس کانسٹیبل آصف خان خٹک زخمی ہوئے ۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو ملزم آغا جعفر مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں اور مسلح سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ موقع پر پہنچا اور پولیس پر فائرنگ کی۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں آغا جعفر بھی شامل تھا، جبکہ اس کے قبضے سے غیر لائسنس یافتہ پستول برآمد ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دیگر ملزمان کے خلاف الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔ مقدمات میں چالان تاحال جمع نہیں ہوا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...