طلبہ نے سربمہر دہلی گورنمنٹ اسکول کا تالا توڑ دیا : سڑک پر اسمبلی لگالی
تاریخی اسکول سربمہر ہونے سے 2800 سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پرلگ گیا، اساتذہ اور والدین بھی احتجاج میں شریک محکمہ تعلیم کا قانونی تنازع اور کرایے کی ادائیگی کیس کے نتیجے میں سربمہرعمارت خریدنے اور عدالتی حکم کے خلاف اپیل کا فیصلہ
کراچی(این این آئی)کریم آباد میں قائم تاریخی دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت کو عدالتی حکم پر سیل کیے جانے کے خلاف سیکڑوں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے احتجاج کیا، جبکہ مشتعل طلبہ نے اسکول کا تالا توڑ کر عمارت میں داخل ہوکر احتجاجاً اسمبلی بھی منعقد کی۔ اسکول کی بندش کے باعث 2800 سے زائد طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق کریم آباد میں قائم دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت کو طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع اور کرایے کی ادائیگی سے متعلق مقدمے کے نتیجے میں عدالتی احکامات پر سیل کیا گیا ہے ۔ اسکول کی عمارت پر عدالتی حکم کے تحت سیل کیے جانے کا باقاعدہ نوٹس بھی آویزاں کردیا گیا۔
اسکول کی بندش کے خلاف طلبہ، اساتذہ اور والدین بڑی تعداد میں اسکول کے باہر جمع ہوگئے ۔ کم عمر طلبہ و طالبات نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ سڑک پر اسمبلی بھی منعقد کی گئی۔ بعد ازاں طلبہ نے اسکول کا تالا توڑ کر عمارت میں داخل ہوکر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ طلبہ اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ اگر اسکول دوبارہ نہ کھولا گیا تو وہ سڑک پر کلاسز لگانے پر مجبور ہوں گے ۔محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر سینٹرل نواز علی نے کہا کہ محکمہ اسکول کو بچانے کے لیے عدالتی حکم کے خلاف اپیل دائر کررہا ہے ، امید ہے عدالت محکمہ تعلیم کا مؤقف سنے گی اور تعاون کرے گی۔
اسکول کے پرنسپل علی خان میر جٹ نے بتایا کہ دہلی گورنمنٹ اسکول میں 2800 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں تقریباً 2100 طالبات اور 700 طلبہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو کسی دوسرے اسکول میں منتقل کرنا ممکن نہیں کیونکہ آس پاس کوئی ایسا بڑا تعلیمی ادارہ موجود نہیں جہاں تمام طلبہ کو جگہ دی جاسکے ۔اساتذہ نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ اسکول کی تاریخی عمارت خرید کر اسے محکمہ تعلیم کے حوالے کیا جائے تاکہ ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے سے بچائی جاسکے ۔ڈائریکٹر اسکولز کراچی ارشد بیگ کے مطابق دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت اس سے قبل 2007ء-04 میں بھی عدالتی حکم پر سیل کی گئی تھی۔ اس وقت کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے معاملے میں کردار ادا کیا تھا اور طلبہ نے سیل توڑ کر اسکول میں داخل ہوکر اپنی تعلیم جاری رکھی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments