میرپور خاص:پولیس حراست میں تشدد، ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم
رام داس کی پولیس حراست میں تشدد سے متعلق درخواست پرہائیکورٹ کا فیصلہتحقیقات اور ٹرائل دو الگ مراحل ہیں تحقیقات ایف آئی اے کرے گی، عدالت
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)پولیس حراستی تشدد کے خلاف اہم عدالتی فیصلہ، ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بنچ میرپورخاص نے رام داس عرف دیالو کی پولیس حراست میں تشدد سے متعلق درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ میرپورخاص کا 22 مئی 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا عدالت نے قرار دیا کہ پولیس حراست کے دوران تشدد کی شکایت اور طبی معائنے میں جسم پر زخموں کے شواہد موجود ہوں تو ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کی دفعہ 5(2) کے تحت ایف آئی اے کو تحقیقات کے لیے اطلاع دینا مجسٹریٹ کی قانونی ذمہ داری ہے عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات اور ٹرائل دو الگ مراحل ہیں تحقیقات ایف آئی اے کرے گی جبکہ مقدمے کا ٹرائل سیشنز کورٹ میں ہوگا۔ صرف یہ بنیاد کہ جرم سیشنز کورٹ میں قابلِ سماعت ہے ، ایف آئی اے کے قانونی تحقیقاتی اختیار کو ختم نہیں کرتی۔ عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ فیصلے کی وصولی کے تین روز کے اندر شکایت، ریمانڈ کارروائی، میڈیکو لیگل ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات ایف آئی اے کو فراہم کی جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments