جیکب آباد:ٹھل میں جلائے اسکول کامقدمہ 4ماہ بعد بھی درج نہ ہوا

جیکب آباد:ٹھل میں جلائے اسکول کامقدمہ 4ماہ بعد بھی درج نہ ہوا

پسند کی شادی پرگاؤں جلایا گیا تھا، محکمہ تعلیم کی مقدمہ درج کرانے میں ٹال مٹولواقعہ کے بعد متاثرین نے فریادیں درج کرائیں، محکمہ تعلیم کاکوئی افسر نہ آیا، پولیس

جیکب آباد(نمائندہ دنیا)ٹھل میں پسند کی شادی پر بلوائیوں نے گاؤں محمد صدیق آرائیں پر حملہ کرکے اسے جلایا تھا، اس واقعہ کو چار ماہ گزر گئے ، گاؤں میں اکلوتا اسکول ہے وہ بھی آگ کی نذر ہوگیا اسکول میں موجود تمام سامان جل گیا، مگر پولیس کے پاس تاحال اسکول جلنے یا جلانے کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا، رابطہ کرنے پر تھانیدار اشفاق احمد نے روزنامہ دنیا کو بتایا جب آگ کا واقعہ پیش آیا تو تمام متاثرین نے تھانے پر آکر اپنی فریادیں درج کروائیں، باقی محکمہ تعلیم کی طرف سے فریاد کرنے تاحال کوئی نہیں آیا جس سے مقدمہ بھی درج نہیں ہوا، گھروں کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے ملزمان گرفتار ہیں، اس وقت جب اسکول اور گاؤں کو جلا یا گیا تھا۔

تو ان دنوں رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خدا بخش دایو نے روزنامہ دنیا کو اپنا موقف دیتے ہوئیئے کہا تھا کہ ہم نے ڈائریکٹر تعلیم لاڑکانہ کو لیٹر لکھا ہے جب وہاں سے کوئی حکم ملے گا پھر ایف ائی آر درج کرائیں گے ، کچھ دنوں بعد مذکورہ اسکول کو سرکار نے اپ گریڈ کرکے سیکنڈری اسکول کردیا ہے مگر جلنے والا واقعہ سب بھول گئے ہیں، ڈی ای او پرائمری خدا بخش دایو کہتے ہیں کہ اب وہ اسکول سیکنڈری بن چکا اب ہم کچھ نہیں کر سکتے ، اس سلسلے میں سیکنڈری کے ڈپٹی ڈائریکٹر پریل شیخ کا کہنا ہے جب اسکول کو آگ لگانے کا واقعہ پیش آیا تو ان دنوں مذکورہ اسکول پرائمری تھا، پھر پرائمری تعلیم والوں نے مقدمہ درج کیوں نہ کرایا،اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...