تھری کوئلے کی رائلٹی علاقے پرخرچ نہ کرنے کیخلاف پٹیشن

تھری کوئلے کی رائلٹی علاقے پرخرچ نہ کرنے کیخلاف پٹیشن

ہائیکورٹ سرکٹ بنچ میرپور خاص میں دائر کی گئی، عدالت کے فریقین کونوٹس جاری2سال میں 50ارب تعلیم، صحت ودیگر ضروریات پرخرچ نہ کرنے پرجواب طلب

میرپورخاص (بیورورپورٹ)تھر سے نکلنے والے کوئلے کی رائلٹی علاقے کی ترقی پر خرچ نہ ہونے اور مقامی لوگوں کو ان کا حق نہ ملنے کے خلاف ہائی کورٹ سرکٹ بنچ میرپورخاص میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے ۔ جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میرپورخاص کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ کانجی مل میگھواڑ نے ہائی کورٹ سرکٹ بینچ میرپورخاص میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں تھر کول بلاک ون اور ٹو سے 2023ء سے 2025ء تک حاصل ہونے والی 50 ارب روپے کی رائلٹی علاقے کی ترقی اور مقامی لوگوں کی تعلیم، صحت اور دیگر متعلقہ ضروریات کے مطابق خرچ نہ کیے جانے پر فریقین سے جواب طلب کیا گیا ہے پٹیشن میں چیف سیکریٹری سندھ بذریعہ حکومت سندھ، سیکریٹری محکمہ توانائی، سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، منیجنگ ڈائریکٹر کول اینڈ انرجی بورڈ، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر، سندھ کول مائننگ کمپنی، سینو سندھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور تھر فاؤنڈیشن کو فریق بنایا گیا ہے ، پٹیشن دائر ہونے کے بعد عدالت نے تمام فریقین کو 19 نومبر کو پیش ہو کر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...