میرپور خاص:43سالہ قدیم بلدیہ لائبریری زبوں حالی کاشکار
انتظامیہ کی غفلت کے باعث علامہ اقبال لائبریری میں بنیادی سہولتوں کا فقدانعمارت بوسیدہ، چھتیں ودیگر حصے مرمت کے منتظر، بارش میں پانی ٹپکتا، سروے
میرپورخاص (رپورٹ: عزیز خان) میرپور خاص کی 43 سالہ قدیم علامہ اقبال میونسپل لائبریری زبوں حالی کا شکار ہوگئی ہے ۔ عمارت کافی عرصے سے بنیادی سہولیات کے فقدان اور انتظامی غفلت کے باعث شدید خستہ حالی کا شکار ہے ۔ لائبریری کی عمارت کی نچلی منزل پر بلدیہ کی تقریباً 50 دکانیں بھی قائم ہیں، جنہیں کرائے پر دیا گیا ہے، جبکہ بالائی حصے میں قائم لائبریری گزشتہ چار دہائیوں سے شہریوں کو مطالعے کی سہولت فراہم کرتی رہی ہے ، وقت گزرنے کے ساتھ لائبریری کی عمارت کی حالت انتہائی خراب ہوتی گئی، عمارت کی چھتیں اور دیگر حصے مرمت کے محتاج ہیں، جبکہ بارش کے دوران چھتوں سے پانی ٹپکنے کے باعث نہ صرف مطالعہ کرنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ کتابوں کے محفوظ رہنے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متعدد مقامات پر چھت کے پلستر گرچکے ہیں، جبکہ کئی جگہوں سے مزید پلستر گرنے کا خدشہ ہے ، جس کے باعث لائبریری میں آنے والے طلبہ، شہریوں اور عملے کو ممکنہ جانی نقصان کا خطرہ ہے ۔ عوامی شکایات کے بعد 2021ء میں اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر سلامت میمن کی جانب سے لائبریری میں مرمتی کام کروایا گیا تھا، تاہم شہریوں کے مطابق یہ مرمت مستقل بنیادوں پر مسئلے کا حل ثابت نہیں ہوئی اور کچھ ہی عرصے بعد عمارت دوبارہ خستہ حالی کی طرف چلی گئی۔ سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بارش کا پانی عمارت میں داخل ہونے کے باعث لائبریری میں موجود قیمتی اور تاریخی کتابوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بچی ہوئی کتابوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ ہزاروں کتابیں کسی بھی شہر کا علمی اور تاریخی اثاثہ ہوتی ہیں، تاہم مناسب دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی صورت میں یہ ذخیرہ ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوسکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments