اورنج ٹرین‘جائیدادوں کے نقصانات کاازالہ نہ ہوا

اورنج ٹرین‘جائیدادوں کے نقصانات کاازالہ نہ ہوا

منصوبے میں شامل درجنوں فلیٹس اور گھردوبارہ تعمیر کر کے واپس نہیں کیے جا سکے

لاہور (شیخ زین العابدین) میٹرو اورنج لائن ٹرین منصوبہ، جو سفری سہولت کی علامت بنا،آج ایک اور سنگین سکینڈل کے ساتھ سامنے آ رہا ہے ،جہاں سرکاری زمین تو لے لی گئی، مگر دس سال گزرنے کے باوجود متبادل تعمیر نہ ہو سکی۔ دستاویزات کے مطابق ایسے درجنوں فلیٹس اور گھر، جو منصوبے کے لیے حاصل کیے گئے ،آج دس سال بعد بھی دوبارہ تعمیر کر کے واپس نہیں کیے جا سکے ۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کیلئے پاکستان پوسٹ کے زیر استعمال 14اعشاریہ 43کنال سرکاری زمین ایکوائر کی گئی۔یہ زمین ایڈورڈ روڈ اور ملتان روڈ پر واقع رہائشی یونٹس پر مشتمل تھی۔ایڈورڈ روڈ پر واقع 76فلیٹس میں سے 64 فلیٹس کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا،جبکہ 12فلیٹس کو تعمیر کے دوران جزوی نقصان پہنچا۔ملتان روڈ پر بھی 9فلیٹس اور ایک بنگلہ منصوبے کی زد میں آ گیا۔ پاکستان پوسٹ کی جانب سے بار بار لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، جو اس منصوبے کی ایگزیکٹنگ ایجنسی تھی،سے مطالبہ کیا جاتا رہا کہ منہدم کیے گئے رہائشی یونٹس کی جگہ نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں،مگر دس سال گزرنے کے باوجود یہ معاملہ فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں