چلڈرن ہسپتال:ڈاکٹر کی لاش ملنے پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع
ڈاکٹر احمد بیوی کو طلاق دے چکے ، ذہنی دباؤ کا شکار تھے ،تشددکا کوئی نشان نہ ملا
لاہور(کرا ئم رپورٹر)چلڈرن ہسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر احمد لطیف کی لاش ملنے پرپولیس نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔پولیس ذرائع کے مطابق متوفی ڈاکٹر کافی عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے ۔ساتھی ڈاکٹر نے انہیں آرام اور رخصت لینے کا مشورہ بھی دیا تھا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ذہنی سکون کی ادویات استعمال کر رہے تھے ۔ انکی گاڑی سے بھی ایسی ادویات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک تجزیے کیلئے لیبارٹری بھجوا دیا گیا۔ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کے جسم پر تشدد یا زخم کے نشانات نہیں پائے گئے ۔ مزید جانچ کیلئے پوسٹمارٹم کے نمونے بھی فرانزک لیب ارسال کر دیئے گئے ۔متوفی ڈاکٹر کی ایک بیٹی ہے جبکہ اپنی اہلیہ کو چار سال قبل طلاق دے چکے تھے ۔ وہ 3 روز سے اپنے کینال ویو گھر واپس نہیں آئے تھے ۔موبائل بند ہونے پر اہلخانہ نے ہسپتال سے فوری رابطہ کیا، انتظامیہ نے بتایا ڈاکٹر دو روز سے غیر حاضر تھے ۔پولیس کا کہنا کہ مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے ، اہلخانہ کوئی کارروائی نہیں کروانا چاہتے ، تھانے میں بھی کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔ فرانزک رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آئیگی۔پولیس نے لاش کو پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔