میوہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات کی کمی، انتظامی خامیاں
چیک اپ کرانے والے 64 فیصد مریضوں کو ادویات فراہم نہ کی جا سکیںسرجیکل او پی ڈی میں صرف دو کمپیوٹرز، ہیلتھ کیئر کی رپورٹ عدالت میں جمع
لاہور (کورٹ رپورٹر)میو ہسپتال لاہور میں بنیادی طبی سہولیات کی سنگین کمی اور انتظامی خامیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے ، جہاں ٹوکن پرچی ملنے کے باوجود ہزاروں مریضوں کا علاج مکمل نہ ہو سکا۔ یہ تفصیلات پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 9 اپریل کو مجموعی طور پر 6085 ٹوکن جاری کیے گئے ، تاہم صرف 3639 مریضوں کا چیک اپ سسٹم میں ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح 10 اپریل کو 4094 ٹوکن جاری ہوئے لیکن 1772 مریضوں کا سٹیٹس سسٹم میں ‘اِن پراسیس’ ہی رہا۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ چیک اپ کرانے والے 64 فیصد مریضوں کو ادویات فراہم نہ کی جا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق بجلی بریک ڈاؤن کی صورت میں ہسپتال کا یو پی ایس بیک اپ صرف 3 سے 4 منٹ تک محدود ہے ، جو کہ ایک بڑے تدریسی ہسپتال کے لیے ناکافی ہے۔ سرجیکل او پی ڈی میں صرف دو کمپیوٹرز دستیاب ہونے کے باعث ڈاکٹرز تھرمل سلپس کے پیچھے نسخے لکھنے پر مجبور ہیں۔یہ رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی دائر کردہ رٹ پٹیشن کے جواب میں جمع کرائی گئی ہے ، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے۔