سوشل میڈیا پر سنسنی خیزی کو روکنا ہوگا:اتحاد امت کانفرنس
مولانا فضل الرحمن 11 جولائی کو ملک بحرانوں سے نجات کالائحہ عمل دینگے :مولانا امجد ملک فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہو سکتا،دل آزارگفتگو نہ کی جائے :لیاقت بلوچ
لاہور(سیاسی نمائندہ)نائب امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث اور السراج اسلامک فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالغفور راشد کی زیر صدارت اتحاد امت کانفرنس میں مقررین نے مذہبی و مسلکی ہم آہنگی اورمقدس شخصیات کے احترام پر زور دیتے کہا ہے کہ ملک مزیدکسی فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ استحکام پاکستان کا تقاضہ ہے کہ تمام مکاتب فکر میں طے شدہ معاملات پر کاربند رہا جائے ،ایسی گفتگو نہ کی جائے کہ جس سے مخالف فرقے کی دل آزاری ہو۔بے لگام سوشل میڈیا پر سنسنی خیزی اوربدتمیزی کو روکنا ہوگا، گفتگو میں احتیاط کی بہت ضرورت ہے ۔ فقہی اور تاریخی اختلافات کی بنیا د پر ایسی فضا قائم نہ کی جائے کہ جس سے ملک میں بد امنی پیدا ہو۔ دفاع پاکستان ،دفاع نظریہ پاکستان ،دفاع اسلام اور دفاع ِ مقدس شخصیات کیلئے ہم حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔لاہور پریس کلب میں اتحاد امت کانفرنس سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، جے یوآئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا امجد خان، ہدیتہ الہادی کے سربراہ پیر سیدہارون گیلانی، مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری اطلاعات مزمل ہاشمی، عثمان ظہیر،پروفیسر محمود غزنوی،عثمان راشد، ڈاکٹر ابراہیم سلفی، حافظ ممتاز نے بھی خطاب کیا ۔مولانا امجد خان نے خطاب میں کہاجے یوآئی 11 جولائی کو بڑا عوامی اجتماع کر رہی ہے جس سے پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن ملک کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نجات کیلئے لائحہ عمل دینگے ۔حالات کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم بھی معاشی و سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے کردار ادا کریں ۔