تاریخی ورثے کی بحالی کے22منصوبے لٹک گئے
لہر اتھارٹی کے اندرونِ شہر تاریخی عمارتوں، حویلیوں، مال روڈ کی تزئین و آرائش، زیرِ زمین پارکنگ پلازوںسمیت دیگر مقامات پر منصوبوں پرکام التواکاشکار
لاہور (لاہور (اپنے سٹی رپورٹر سے )لہر اتھارٹی کے 22 ترقیاتی منصوبے لٹک گئے ۔ اندرونِ شہر سرکلر روڈ اور مال روڈ کے تاریخی ورثے کی بحالی وتزین و آرائش سست روی کاشکار ، انارکلی ایریا، تاریخی ٹریل اور مال روڈ کی بحالی بھی مکمل نہ ہو سکی ۔ذرائع کے مطابق سپائس مارکیٹ دہلی گیٹ تا اکبری گیٹ کی بحالی سست روی کا شکار ،شاہدرہ کمپلیکس ،شاہی قلعہ کے اضافی کاموں کی بحالی ، شالیمار باغ کی بحالی و تزئین و آرائش ،انارکلی، جین مندر، پان گلی، بخشش مارکیٹ کی بحالی سست روی کا شکار ، پرانے سٹیم پمپ ہاؤس کی بحالی ،پانی والا تالاب کا کام بھی نہ ہو سکا۔ ٹولنٹن مارکیٹ، مال روڈ کے پاس زیرِ زمین پارکنگ پلازہ التوا کا شکار ،نیلا گنبد ایریا کی اپلفٹنگ ، زیرِ زمین پلازہ کے ترقیاتی کام کی ڈیڈلائن بڑھا دی گئی،اندرونِ شہر میں زیرِ زمین بجلی و ٹیلی کام سسٹم ،سیوریج، ڈرینج، واٹر سپلائی، سڑکوں کی بہتری کا کام التوا کا شکار ہے ۔تاریخی ٹریل پر عمارتوں کے فرنٹ کی بحالی کیلئے 50 کروڑ کے فنڈز جاری نہ ہو سکے ،تاریخی عمارتوں، حویلیوں کی بحالی اور سیاحت کے فروغ کیلئے 80کروڑ کے فنڈز کی. تجویز دی گئی ،مال روڈ، نیلا گنبد، کنگ ایڈورڈ، پاک ٹی ہاؤس کی بحالی ،ناصر باغ، پنجاب یونیورسٹی، GCU مال روڈ کے اطراف ،4 پرانے دروازوں کی تعمیرِ نو، ذکی، شاہ عالم، ٹیکسالی، موچی گیٹ کا کام ،مال روڈ اور تاریخی زونز کی بحالی،وزیر خان بارہ دری، NCA، میوزیم کے کام نہ ہوسکے ۔موچی گیٹ کے پاس زیرِ زمین پارکنگ پلازہ ،شیرانوالہ گیٹ زیرِ زمین پارکنگ ،ناصر باغ میں زیرِ زمین پارکنگ پلازہ کا کام بھی سست روی کا شکار ہے ۔لہر اتھارٹیکے 22 منصوبوں میں سے زیرِ زمین آرکیڈپارکنگ کے 6 منصوبوں کیلئے سب سے زیادہ بجٹ رکھے گئے ہیں۔ سیکرٹری بلدیات شکیل میاں کا کہنا ہے تعمیر و بحالی کی کچھ سکیمیں نئے بجٹ 2026 اور کچھ 2028 تک مکمل ہونگی ،تعمیرنو وبحالی کے کام مقررہ مدت میں پورے ہونگے ۔