چینی نرخ 25فیصد کم، شوگر سیکٹر بدستور بحران کاشکار

چینی نرخ 25فیصد کم، شوگر سیکٹر بدستور بحران کاشکار

13 لاکھ سرپلس چینی کی اضافی مقدار نے انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچایا کرشنگ سیزن میں نئی چینی کی آمد پر صورتحال مزید بگڑ جائے گی:ترجمان

لاہور (اپنے سٹی رپورٹر سے )شوگر ملز ایسوسی ایشن نارتھ زون نے کہا ہے کہ ادارہ شماریات کے ہفتہ وار اعداد وشمار کے مطابق چینی کی قیمتیں گزشتہ ایک سال میں 25 فیصد تک کم ہوئیں اور شوگر سیکٹر کو بدستور مالی بحران کا سامنا ہے جس میں حکومت کی جانب سے پالیسی فیصلوں میں تاخیر سے مزید شدت آئی ہے ۔ اس عرصے کے دوران شوگر انڈسٹری کو 98 اَرب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ملک بھر میں 12 شوگر ملز پہلے ہی نقصانات پربند ہو چکی ہیں اور بہت سی بند ہونے کے قریب ہیں۔ چینی کے بھاری ذخائر کی موجودگی پرشوگر انڈسٹری آئندہ کرشنگ سیزن کا بروقت آغاز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی اور نہ ہی وہ گنے کے کاشتکاروں کو گزشتہ برسوں کی طرح بہتر قیمتیں ادا کرسکے گی ۔13 لاکھ سرپلس چینی کی اضافی مقدار نے شوگر انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچایا ہے ۔ انڈسٹری کوچینی کے اضافی ذخائر کو سنبھالنے کی لاگت برداشت کرنی پڑی جو کہ بینک قرضوں پر مالیاتی اخراجات کی صورت میں تھی۔ اس کیساتھ ساتھ سیلز ٹیکس کی بلند ترین شرحوں کے باوجود پاکستان میں چینی کی قیمتیں دنیا بھر میں سب سے کم ہیں۔ترجمان نے کہا جب تک کم از کم 10 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد نہیں کی جاتی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئندہ کرشنگ سیزن میں نئی چینی کی آمد پر مذکورہ صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔ حکومت کو شوگر انڈسٹری کو مکمل ڈی ریگولیٹ کر دینا چاہئے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...