منہاج یونیورسٹی :بین المذاہب کانفرنس 5نکاتی اعلامیہ کیساتھ ختم
ڈاکٹر حسین محی الدین نے مذہبی ہم آہنگی ، تعلیمی و سماجی اصلاحات کیلئے لائحۂ عمل پیش کیا
لاہور (سیاسی نمائندہ)منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام دو روزہ مذاہب عالم کانفرنس 5 نکاتی اعلامیہ کیساتھ اختتام پذیر ہوگئی جسے اعلان ِ لاہور کا نام دیا گیا ۔اعلامیہ کے مطابق منہاج یونیورسٹی ہر سال یونیسکو چیئر فار پیس اینڈ ایجوکیشن کے اشتراک سے لاہور ہیلنگ انڈیکس شائع کرگی جس کیلئے 5 انڈی کیٹرز بطور پیمانہ مقرر کیے گئے ۔وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے خطبہ استقبالیہ جبکہ اعلامیہ رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد نے پیش کیا۔ بورڈ آف گورنرز کے ڈپٹی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے بین المذاہب رواداری کے فروغ، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال، فروغ امن و استحکام کیلئے مرکزی خطاب میں جو تجاویز دیں شرکاء نے انہیں مشترکہ اعلامیہ قراردیا۔ ڈاکٹر حسین محی الدین نے بین المذاہب ہم آہنگی اور تعلیمی و سماجی اصلاحات کیلئے 5نکاتی لائحۂ عمل پیش کیا اور تجاویز دیں کہ جامعات اور دینی اداروں میں مذہبی روایات کی روشنی میں انسانی وقار، باہمی احترام اور خدمتِ خلق کا بنیادی کورس متعارف کروایا جائے ۔
مختلف مذاہب کے نوجوانوں پر مشتمل مشترکہ گروپ تشکیل دیکرمظلوموں کی حمایت اور ماہانہ فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عملی یکجہتی،طلبہ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالے مذہبی دعوئوں کی تحقیق و تصدیق کیلئے علمی و مباحثاتی مراکز قائم کرنے پرزور دیاگیا،ایک طالب علم، ایک بچہ پروگرام کے تحت ہر جامعہ کا طالبعلم کم از کم ایک بچے کو پڑھنا سکھائے اور عبادت گاہوں کو شام کے اوقات میں تعلیمی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جائے ۔ خواتین کو تعلیم، تحقیق اور قیادت کے مساوی مواقع دینے اور بین المذاہب کونسلوں میں مساوی شرکت کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک اداروں سے اپیل کی کہ وہ اعلانِ لاہور کو اپنائیں اور آئندہ سال کے دوران فریم ورک کے کم از کم ایک شعبے میں عملی کام کا عہد کریں۔ اختتامی سیشن میں آسٹریلیا سے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ سعید،وزیراقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا، امریکہ سے ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ پینل ڈسکشن میں حصہ لیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments