وہاڑی میں محکمہ تعلیم کی اراضی پر قبضہ، سرکاری سکول متاثر

وہاڑی میں محکمہ تعلیم کی اراضی پر قبضہ، سرکاری سکول متاثر

جناح آبادی میں سکول اور کھیل کے میدان کی زمین فروخت ہونا شروع سینکڑوں بچے کھلے احاطوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور، مستقبل داؤ پر

وہاڑی (نمائندہ خصوصی)وہاڑی کے چک نمبر 24 ڈبلیو بی خانیوال روڈ پر واقع جناح آبادی میں 500 سے زائد گھرانوں کی آبادی کے لیے مختص سرکاری سکولوں اور کھیل کے میدان کی زمین پر مبینہ قبضے کے انکشاف نے علاقے میں تشویش پیدا کر دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق تین ایکڑ زمین سکولوں اور ایک ایکڑ کھیل کے میدان کے لیے سن 1989ء سے محکمہ تعلیم کے نام تھی، تاہم قبضہ گروپ نے اسے مبینہ طور پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے ۔اہل علاقہ کے مطابق کئی سال سے متعلقہ فورمز اور محکمہ مال کو درخواستیں دی جاتی رہی ہیں اور 32/34 کے احکامات بھی جاری ہوئے لیکن بااثر عناصر کی پشت پناہی کے باعث کارروائی کاغذی حد تک محدود رہی۔ موجودہ صورتحال میں سکول کی اپنی عمارت نہ ہونے کے باعث صرف ایک استاد 500 سے زائد بچوں کو لوگوں کے گھروں اور خالی احاطوں میں عارضی تعلیم دینے پر مجبور ہے ۔مزید بتایا گیا کہ جب محکمہ تعلیم کے افسر سکول کے رقبے کا معائنہ کرنے پہنچے تو قبضہ گروپ کے افراد نے ان پر ڈنڈوں اور راڈوں سے حملہ کیا اور سکول کا بورڈ بھی اکھاڑ دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ اور خرید و فروخت اب بھی جاری ہے ، جبکہ سابق اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو تحریری طور پر آگاہی دینے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔اہل علاقہ اور والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں اور کھیل کے میدانوں سے قبضہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اور سکول کی باضابطہ عمارت تعمیر کی جائے تاکہ بچے معیاری تعلیم کے لیے عارضی مقامات پر مجبور نہ ہوں۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں