گگو منڈی:ٹمبر مافیا سرگرم،درختوں کی غیرقانونی کٹائی
نہر کنارے بے دریغ کٹائی سے آلودگی میں اضافہ، سرکاری خاموشی پر سوالات
گگو منڈی (نامہ نگار) بوریوالا کی حدود میں کھادر نہر اور پی آئی نہر کے کناروں پر موجود قیمتی اور سرسبز درختوں کی مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کٹائی جاری ہے جس سے نہ صرف لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری لکڑی چوری ہو رہی ہے بلکہ ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہو رہا ہے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق یہ غیر قانونی عمل محکمہ جنگلات کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جاری ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں بھاری مشینری کے ذریعے شیشم اور کیکر کے درخت کاٹ کر مختلف لکڑی منڈیوں خصوصاً ملتان منتقل کیے جا رہے ہیں۔ماہرین ماحولیات کے مطابق نہروں کے کناروں پر موجود درخت زمین کے کٹاؤ کو روکنے اور ماحول کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم ان کی بے دریغ کٹائی سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ اور زرعی زمینوں کو نقصان کا خدشہ ہے۔
شہریوں، کسان تنظیموں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرسبز پنجاب کا خواب خطرے میں ہے ۔ انہوں نے شفاف انکوائری، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور نہروں کے اطراف سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔دوسری جانب رینج آفس بوریوالا کے رینج افسر سے رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم دفتر بند پایا گیا اور فون بھی اٹینڈ نہ کیا گیا، جس پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔