سگریٹ نوشی کیخلاف عوامی آگاہی ناگزیر،ڈاکٹرمحسن
ملتان (لیڈی رپورٹر)آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹوز (اے آر آئی)، سن کنسلٹنٹ اور کمیونٹی ٹوبیکو کنٹرول گروپ کے زیر اہتمام ‘‘سگریٹ نوشی کے اثرات اور حکمت عملی’’ کے موضوع پر کمیونٹی آگاہی سیشن منعقد ہوا۔
جس میں ماہرین صحت، سماجی رہنماؤں اور ٹرینرز نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلطان محمود ملک نے کہا کہ ادارے ‘‘تمباکو نوشی سے پاک پاکستان پروگرام’’ کے تحت طویل عرصے سے آگاہی سیشنز اور مشاورتی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد سگریٹ کے استعمال میں کمی لا کر عوامی صحت کا تحفظ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں، جن کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز میں آگاہی ضروری ہے ۔ڈاکٹر محمد محسن نے کہا کہ طویل عرصے تک سگریٹ نوشی گلے کے کینسر سمیت مہلک بیماریوں کا سبب بنتی ہے ۔ اس سے نہ صرف استعمال کرنے والا بلکہ اردگرد کے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر محمد مزمل نے کہا کہ حکومت بحالی مراکز کے ذریعے نشے کے عادی افراد کا علاج اور رہنمائی کر رہی ہے ، تاہم غیر قانونی سگریٹ برانڈز کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے ۔مقررین نے تحفظِ عامہ آرڈیننس 2002 کی شقوں پر عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے باوجود عملدرآمد کمزور ہے ۔