اربن اراضی الاٹمنٹ کیس، تین رٹ درخواستیں خارج
اربن اراضی الاٹمنٹ کیس، تین رٹ درخواستیں خارجمیونسپل حدود کی اراضی دیہی ظاہر کرنے کا مؤقف عدالت عالیہ نے نہ مانا
ملتان (کورٹ رپورٹر) ہائی کورٹ ملتان بینچ کے سینئر جج چودھری محمد اقبال نے میونسپل حدود میں واقع اراضی کو ریکارڈ میں ردوبدل کرکے دیہی اراضی ظاہر کرنے اور عارضی کاشت سکیم کے تحت الاٹ کرانے سے متعلق تین رٹ درخواستیں خارج کر دیں۔عدالتی کارروائی کے دوران اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل کنور ساجد علی نے مؤقف اختیار کیا کہ احمد یار نے 98 کنال 10 مرلے ، شیر بہادر نے 100 کنال جبکہ حسنی مباراک نے 100 کنال اراضی چک نمبر 11 منکیرا میں عارضی کاشت سکیم کے تحت اپنے نام الاٹ کرائی۔ سرکاری وکیل کے مطابق مذکورہ اراضی میونسپل کمیٹی کی حدود میں واقع ہے اور اربن ایریا کا حصہ ہونے کے باعث اس کی مالیت کروڑوں روپے ہے ، تاہم متعلقہ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے اسے دیہی اراضی ظاہر کرکے الاٹمنٹ حاصل کی گئی۔درخواست گزاروں کے وکیل آصف اقبال خان شاہانی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ اراضی دیہی علاقے میں واقع تھی اور حکومت نے بعد ازاں اسے میونسپل حدود میں شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکلوں کو اراضی عارضی الاٹمنٹ سکیم کے تحت دی گئی تھی اور وہ اس پر کاشت بھی کر رہے ہیں، لہٰذا میونسپل حدود میں توسیع ان کے لیز معاہدے پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست گزاروں کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے تینوں رٹ درخواستیں خارج کر دیں۔