بجٹ کاروبار، صنعت ، زراعت دوست بنایا جائے ، عمار یاسر

بجٹ کاروبار، صنعت ، زراعت دوست بنایا جائے ، عمار یاسر

بجٹ کاروبار، صنعت ، زراعت دوست بنایا جائے ، عمار یاسررئیل اسٹیٹ، کاشتکاروں ، تاجروں کو ریلیف دیکر سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ

ملتان (لیڈی رپورٹر)ممبر ایگزیکٹو کمیٹی ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ضلعی چیئرمین چیمبر آف سمال ٹریڈرز ملتان اور صدر پاکستان بزنس فورم ملتان خواجہ عمار یاسر نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کو حقیقی معنوں میں کاروبار، صنعت، زراعت اور سرمایہ کاری دوست بنایا جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ ملکی معیشت کا اہم شعبہ ہے جس سے تعمیرات، سیمنٹ، سریا، ٹائلز، فرنیچر، ٹرانسپورٹ اور دیگر کئی صنعتیں وابستہ ہیں۔ رئیل اسٹیٹ پر عائد بھاری ٹیکسوں اور پیچیدہ قوانین کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے ، اس لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس اور دیگر محصولات میں نمایاں کمی کی جائے ۔خواجہ عمار یاسر نے کہا کہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں صنعت، تجارت اور عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ حکومت توانائی کے نرخوں میں کمی اور سولر انرجی کے فروغ کے لیے خصوصی مراعات دے ۔ انہوں نے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے لیکن کسان بڑھتی لاگت اور کم منافع کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات اور مشینری پر ٹیکس کم کیے جائیں اور زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے خصوصی بجلی نرخ مقرر کیے جائیں۔انہوں نے تاجر برادری پر کسی بھی نئے فکس ٹیکس نظام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے ۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں صنعتکاروں، تاجروں، کاشتکاروں اور عام شہریوں کو حقیقی ریلیف دیا جائے تاکہ سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں اضافہ ہو سکے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں