ویمن یونیورسٹی طالبات کو بااختیار بنانے کے منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ
ایم پی اے سلمیٰ سعید کی وائس چانسلرپروفیسر سیدہ شاہدہ بتول سے ملاقات، حکومتی تعاون سے خواتین اور طالبات کی تعلیم و ذہنی صحت اور فلاحی اقدامات پر اتفاق،ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی
ملتان (خصوصی رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں حکومتی اداروں کے تعاون سے طالبات کو بااختیار بنانے ، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور فلاحی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ممبر صوبائی اسمبلی سلمیٰ سعید نے ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول سے ملاقات کی اور انہیں منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ملاقات کے دوران اعلیٰ تعلیم کے فروغ، طالبات کی فلاح و بہبود، ذہنی صحت کی سہولیات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خواتین کی ترقی اور بہتری کے لیے تعلیمی اداروں اور حکومتی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔اس موقع پر سلمیٰ سعید نے وائس چانسلر کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار ماہر تعلیم ہیں اور ان کی قیادت میں ویمن یونیورسٹی ملتان مزید ترقی کرے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی تعلیمی معیار، تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گی۔انہوں نے طالبات کی ذہنی صحت، سماجی فلاح اور رہنمائی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے تعلیمی اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آگاہی اور کونسلنگ سیشنز کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی طالبات کو معیاری تعلیم، جدید تحقیق اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت، شخصیت سازی اور فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔یونیورسٹی حکومتی اداروں، منتخب نمائندوں اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے طالبات کے لیے مزید بہتر تعلیمی اور عملی مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔