ایمرسن یونیورسٹی کے کونسلنگ سنٹر کو بحال کرنے کا فیصلہ
بی ایس سائبر سکیورٹی کے طالبعلم کی خودکشی کے بعد سنٹر بحالی کا فیصلہ کیا گیا
ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان،بی ایس سائبر سکیورٹی کے طالب علم کی خودکشی، کونسلنگ سنٹر کو بحال کرنے کافیصلہ تفصیل کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی کے طالب علم نے ڈپریشن کا شکار ہوکر موت کو گلے لگالیا،جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے بند کئے گئے سنٹر کوبھی بحال کرنے کا عندیہ دے دیا ذرائع کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی کے شعبہ سائبرسیکورٹی کے 5ویں سمسٹر کے طالب رولنمبر 38الطاف حسین مظفر گڑھ کا رہائشی تھا ڈپریشن کا شکار ہوگیا ۔ یونیورسٹی کے دیگر 300بچوں کی طرح وہ بھی یونیورسٹی کے کونسلنگ سنٹر میں تھراپی لے رہا تھا مگر یونیورسٹی کے رجسٹرار کی ذاتی چپلقش کی وجہ سے کونسلنگ سنٹر ڈیڑھ ہفتہ قبل بند کردیا گیا اور اس کی انچارج ڈاکٹر قراۃ العین کو ہٹا دیاگیا۔
یہ معاملہ وی سی کے علم میں بھی لایاگیا مگر بیورکریسی کی روایتی سستی سے الطاف دوبارہ ڈپریشن کا شکار ہوگیا اور موت کو گلے لگالیا جس کی اطلاع ملتے ہیں یونیورسٹی حکام نے کونسلنگ سنٹر کو بحال کرنے کااعلان کردیا اس بارے میں یونیورسٹی ترجمان کا کہنا تھا کہ طالب علم کو یونیورسٹی کلاس کی کوئی پریشانی نہیں تھی فیسیں بھی شیڈول کے مطابق اد ا کررہا تھا مگر گھریلو مسائل کی وجہ سے اس نے خودکشی کی ہے۔ ، یونیورسٹی کا کونسلنگ سنٹر آج سے بحال کیا جارہا ہے اس کی انچارج کا فیصلہ آج صبح وائس چانسلر کریں گے دوسری طرف تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے باعث مبینہ خودکشی کے واقعے نے طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں دوسری جانب یونیورسٹی میں طلبہ کی نفسیاتی معاونت کے لئے قائم واحد کونسلنگ سینٹر کی انچارج ڈاکٹر قرۃ العین کو ذمہ داری سے ہٹائے جانے ،اور انتظامیہ کی جانب سے ان کو ہراساں کی اطلاعات نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے سائیکالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قرۃ العین سے 300 سے زائد طلبہ ڈپریشن، ذہنی دباؤ، تعلیمی و خاندانی مسائل اور دیگر نفسیاتی مشکلات کے حوالے سے کونسلنگ حاصل کر ر ہی تھیں جو اچانک روک دی گئیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments