گرم اور مرطوب علاقوں میں رعفران کی کاشت ممکن بنا دی گئی

گرم اور مرطوب علاقوں میں رعفران کی کاشت ممکن بنا دی گئی

کاشت کیلئے ستمبر کا موسم موذوں ہے ، چالیس روز تک فصل تیار ہو جاتی ہے کھا د کی ضرورت نہیں،پانی انتہائی کم درکار ،حکومت سرپرستی کرے ،کاشتکار

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) زعفران ایسی فصل ہے جو مقامی و عالمی مارکیٹوں میں یہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتا ہے ویسے تویہ چترال اور اسی جیسے سرد علاقوں کی فصل ہے اور دیگر علاقوں میں اسے ناقابل کاشت قرار دیا جاتا ہے مگر سرگودھا کے ایک فارمر زنے کئی سالو ں کی جدوجہد کے بعد اسے گرم اور مرطوب علاقوں میں بھی کاشت اور پیدوار حاصل ممکن بنا دی ہے ،فارمرز کا کہنا ہے کہ یہاں زعفران کی کاشت کیلئے ستمبر کا موسم انتہائی موذوں ہے ،اور چالیس روز تک فصل تیار ہو جاتی ہے اس کیلئے کھاد کی سرے سے ضرورت نہیں اسی طرح پانی بھی انتہائی کم درکار ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات اس کی کاشت پر صرف ایک مرتبہ سرمایہ کاری ہوتی ہے ،زعفران کے پھول کے ساتھ چھوٹے پیاز نما ایک بیج بھی پیدا ہوتا ہے جسے اگلے سال کیلئے محفوظ کر لیا جاتا ہے ،ماہر زراعت کا کہنا ہے کہ زعفران کو 30ڈگری ٹمپریچر میں ملک کے کسی بھی حصے میں کاشت کیا جا سکتا ہے ، اور انتہائی کم رقبے پرکاشت کر کے اسکی وسیع پیمانے پر پیدوار حاصل کی جا سکتی ہے ،جس کیلئے حکومتی سرپرستی انتہائی ضروری ہے ،ربنواز بُرچھاکا کہنا ہے کہ حکومت اس جانب اگر توجہ دے تو نہ صرف کاشتکاروں کیلئے یہ منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں