کین کمشنر نے گنے کے کاشتکاروں کو کم ادائیگی اور دھوکہ دہی کا سخت نوٹس لےلیا

کین کمشنر نے گنے کے کاشتکاروں کو کم ادائیگی اور دھوکہ دہی کا سخت نوٹس لےلیا

شوگر ملیں گنا خرید کر کاشتکاروں کو سی پی آر تو سرکاری نرخ کے حساب سے جاری کر رہے ہیں مگر ادائیگی 20 سے 40 روپے فی من کم کی جا رہی ہے ،ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی گئی

سرگودھا (سٹاف رپورٹر) کین کمشنر پنجاب نے سرگودھا سمیت دیگراضلاع میں حالیہ کریشنگ سیزن کے دوران کاشتکاروں کے استحصال اور ان کے ساتھ ہونیوالے دھوکہ دہی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے شوگر ملوں کے خلاف کاروائی کی ہدایات کی ہیں ذرائع کے مطابق حکومت کے علم میں آیا ہے کہ غیر قانونی کنڈا جات کے ساتھ ساتھ بعض اضلاع میں شوگر ملوں کی انتظامیہ سی پی آر سرے سے جاری نہیں کر رہیں اور خالی پرچیوں پر گنے کا وزن اور مختصر کاروائی درج کر کے کاشتکاروں کو دی جا رہی ہیں اور ان پر گنے کا ریٹ نہیں لکھا جا رہا، جبکہ دیگر اضلاع میں شوگر ملیں گنا خرید کر کاشتکاروں کو سی پی آر تو سرکاری نرخ کے حساب سے جاری کر رہے ہیں مگر ادائیگی بیس سے چالیس روپے فی من کم کی جا رہی ہے ، یہ بات بھی سامنے آئی کہ اکثر کنڈا جات پر مڈل مین کاشتکاروں سے انتہائی کم قیمت پر گنا خرید کر فرضی ناموں سے سی پی آر کٹوا رہے ہیں ۔گزشتہ ہفتے کے دوران سرگودھا سمیت دیگر 22اضلاع میں بھی چیکنگ کے دوران مجموعی طور پر 251میں سے 93کنڈ غیر قانونی نکلے ،جس پر کین کمشنر پنجاب نے ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو متعلقہ شوگر ملوں کی انتظامیہ کے خلاف کاروائی کر کے رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت کی گنے کے کاشتکاروں نے کین کمشنر کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہمارے حقوق کا تحفظ ہوگا اور ہمیں ہماری محنت کا پورا معاوضہ ملے گا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم ادا کی گئی رقم کی وصولی بھی یقینی بنائی جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں