جناح آبادی سکیم کی آڑ میں سرکاری رقبوں پر قبضے اور فروختدچھان بین ٹھپ

جناح آبادی سکیم کی آڑ میں سرکاری رقبوں پر قبضے اور فروختدچھان بین ٹھپ

سرکاری رقبہ جات جناح آبادی ڈکلیئر ، پرائیویٹ زرعی رقبہ جات کی قیمتیں بڑھا کر رہائشی کالونیاں بنا دی گئیں ،اعلیٰ شخصیات نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ،قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان

سرگودھا(سٹاف رپورٹر)شہر کے اطراف بالخصو ص بائی پاس کے اہم چوراہوں اور سڑکوں کے نزدیک ترین علاقوں میں جناح آبادی سکیم کی آڑ میں سرکاری رقبوں پر ناجائز قبضے اور فروخت کے انکشاف پر شروع ہونیوالی چھان بین کا عمل ٹھپ کر دیا گیا، ذرائع کے مطابق سابقہ ادوار میں سرکاری رقبہ جات کو جناح آبادی سکیم ڈکلیئر کر کے ان پر غیر قانونی قبضے کروائے گئے ،اسی طرح پرائیویٹ زرعی رقبہ جات کی قیمتیں بڑھا کر رہائشی کالونیاں بنا دی گئیں ، اور یہ عمل 2021تک جاری رہا، جس میں محکمہ مال کے افسران و ملازمین یہاں تک کہ اعلیٰ شخصیات نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے ، الاٹمنٹ کے نام پر تحصیلداروں،نائب تحصیلداروں اور پٹواریوں کی مبینہ آشیر باد سے جعلی دستاویزات تیار کر کے پلاٹوں کو آگے فروخت کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ،اور حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، اس ضمن میں 40شمالی راجباہ روڈ،39شمالی چوک،33شمالی، سلانوالی روڈ، شاہین آباد روڈ سمیت مختلف مقامات کی نشاندہی سرکاری سطح پر ہو چکی ہے ،جس پر صوبائی حکومت نے گزشتہ سال معاملات کی چھان بین اور ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ ساتھ سخت ایکشن کی ہدایت جاری کی مگر سیاسی رکاوٹ کے باعث عملدرآمد نہیں ہو رہااور اب اس حوالے سے معاملات لگ بھگ ٹھپ کر دیئے گئے ہیں ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں