"ZAM" (space) message & send to 7575

صنعتوں کا ڈیتھ وارنٹ

چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن گوہر اعجاز نے ملک میں صنعتی بدحالی کو مہنگی بجلی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی پر دیگر صارفین کو دی جا رہی 102ارب روپے کی کراس سبسڈی ملک کی صنعت کیلئے ڈیتھ وارنٹ ہے اور یہ وارنٹ واپس نہ ہوا تو سسکتے صنعتی شعبے کی موت یقینی ہے۔ گوہر اعجاز کی اس بات کا تعلق سیٹھوں کی تجوریاں بھرنے کی رفتار میں کمی سے زیادہ کروڑوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے سے ہے کیونکہ بڑے صنعتکار اور تاجر تو اپنی جمع پونجی سے اچھے وقت کا انتظار کرتے ہوئے اپنی صنعت کو آن ہولڈ کر لیں گے لیکن بمشکل 40 ہزار روپے ماہانہ اجرت والے مزدور کا خاندان بیروزگاری کا ایک دن بھی نہیں نکال سکتا۔اب جائزہ لیتے ہیں کہ گوہر اعجاز کو یہ بات کیوں کہنا پڑی۔
ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو وزارتِ خزانہ کی پرانی فائلوں میں جو اعداد وشمار ملتے ہیں ان کے مطابق قیام پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش) کا کل ملکی برآمدات میں حصہ لگ بھگ 70 فیصد اور مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کا حصہ 30 فیصد تھا۔ مشرقی پاکستان کی کل برآمدات میں خام پٹ سن کا حصہ پورے ملک کی برآمدات کا پچاس فیصد تھا جبکہ 12 فیصد اسی پٹ سن سے بنے ٹاٹ اور جیوٹ کی بوریاں تھیں۔ مغربی پاکستان کا جائزہ لیں تو 1947-48ء میں خام کپاس اور سوتی دھاگے کی ایکسپورٹس کل ملکی برآمدات کا 18 فیصد جبکہ چھ فیصد باسمتی چاول اور گندم شامل تھی۔ اس تصویر سے واضح ہوجاتا ہے کہ قیام پاکستان کے پہلے دوسال میں مغربی حصے کی کل برآمدات کا 50سے 60فیصد حصہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات ہی تھیں‘ اور 2024-25ء کو دیکھیں تو کل ملکی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا شعبہ 17 ارب 88 کروڑ ڈالر کے ساتھ 56 فیصد کا حصے دار تھا‘ مطلب پون صدی بعد بھی ہم ٹیکسٹائل کا متبادل تلاش نہیں کر سکے۔
ملک میں آنے والی ہر حکومت متبادل ایکسپورٹس مصنوعات اور نئی منڈیوں کی تلاش کے منصوبے بناتی ہے‘کبھی ملکی اور کبھی بھاری معاوضوں پر غیرملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ پاکستانی سفارتخانوں کے کمرشل قونصلرز اور ٹریڈ کمشنرز کو سخت خطوط لکھے جاتے ہیں کہ پاکستانی مارکیٹ کے پھیلاؤ میں جاندار کردار ادا کرو ورنہ سخت کارروائی ہوگی لیکن نہ کبھی متبادل مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات کا ہدف پورا ہوسکا‘ نہ روایتی منڈیوں سے آگے بڑھ کر نئی مارکیٹوں میں رسائی کی منزل تک پہنچ پائے اور نہ ہی سخت ایکشن کی وارننگ سے بات آگے بڑھ سکی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستانی غیر روایتی مصنوعات میں جے ایف 17 تھنڈر‘پاکستانی ساختہ ڈرونز‘ تربیتی جنگی طیارے اور دیگر سازو سامان کی ایک بڑی مارکیٹ غیرمتوقع طور پر کھل گئی ہے لیکن اس کو زمینی حقیقت بننے میں چار سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہے۔ اس صورتحال میں لگتا ہے کہ آجا کے ٹیکسٹائل پر ہی انحصار کرنا پڑے گا لیکن گوہر اعجاز کی مراد صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری نہیں ہے بلکہ مہنگی بجلی تمام صنعتوں کا ڈیتھ وارنٹ ہے۔
بجلی کے شعبے کو دیکھتے ہیں کہ اس میں مسائل کیا ہیں تو سب سے بڑا مسئلہ تو دو ہزار ارب روپے کے وہ کپیسٹی چارجز ہیں جو نجی پاور کمپنیوں کو بجلی کا ایک یونٹ بھی خریدے بغیر ہر سال ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ پورے ملک میں خرچ ہونے والی بجلی کی قیمت ایک ہزار ارب روپے سالانہ ہوتی ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ 2600 ارب روپے کا گردشی قرضہ ہے جس کی ادائیگی کیلئے ہر صارف کو فی یونٹ تین روپے 23 پیسے کا اضافی خراج ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کے بلوں میں لگ بھگ 70فیصد صارفین کو کسی ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنا پڑ رہی ہے کیونکہ ملکی ضروریات اور بجلی کے ترسیلی نظام کی صلاحیت دیکھے بغیر ہر حکومت نے دھڑا دھڑ نئے بجلی گھر (آئی پی پیز) لگوانے کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں 48ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے بجلی گھر لگے ہوئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ استعمال 23ہزار میگاواٹ سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ شومیٔ قسمت یہ کہ ماحولیات کی عالمی تحریک کا حصہ ہونے کے باعث پاکستان نے چند سال قبل سولرائزیشن کو بھی اپنا لیا اور اب اگر صرف زرعی شعبے کو لیں تو اس میں بجلی کی کھپت گزشتہ دو برسوں میں 38 فیصد کم ہوچکی ہے اور گوہر اعجاز کے مطابق ایک کروڑ 10 لاکھ گھریلو صارفین بھی سولر پر شفٹ ہوچکے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ تخمینہ لگایا جارہا ہے کہ ملک میں کل بجلی کی کھپت کا 25 فیصد اس سال کے اختتام تک سولر پر شفٹ ہوچکا ہوگا۔ جب اتنا بڑاحصہ نیشنل گرڈ سسٹم سے نکل جائے گا تو کپیسٹی پے منٹس مزید بڑھ جائیں گی اور پھر حکومت کے پاس دو آپشنز بچیں گی کہ وہ یہ اضافی بوجھ 200 یونٹس ماہانہ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو منتقل کردے یا پھرتمام بوجھ پہلے کی طرح بقول گوہر اعجاز صنعتوں پر ڈال کر سیاست بچالے۔حکومت کیلئے فارسی محاورے ''نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ والی صورتحال بنی ہوئی ہے۔
گوہر اعجاز کے مطابق پاکستانی برآمدی مال کے مدمقابل ملکوں میں بجلی کا ٹیرف نو امریکی سینٹ یعنی (25 پاکستانی روپے) جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں یہ ریٹ 12سینٹ (33 روپے 60 پیسے) ہے لہٰذا آٹھ روپے 40 پیسے فی یونٹ کا یہ فرق پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو منڈیوں میں پاؤں نہیں ٹکانے دے رہا۔ دوسری طرف حکومت کے اقدامات کی چھان بین کریں تو پتا چلتا ہے کہ جب وزیر اعظم شہباز شریف نے مارچ 2024ء میں حلف اٹھایا تو صنعتی شعبے کا ٹیرف فی یونٹ 62 روپے 99 پیسے تھا اور وجہ اور مجبوری وہی کیپسٹی چارجز تھے لیکن اپٹما‘ ایف پی سی سی آئی اور دیگر کاروباری تنظیموں کی شور شرابے کے بعد ایک کمیٹی نے کئی پرانے نجی بجلی گھروں سے مذاکرات کے تحت معاہدے ختم کر دیے تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ریلیف مل گیا مگر اصل مسئلہ حل نہیں ہوا اور حکومت نے 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین کے 225 ارب روپے ریلیف کا بوجھ صنعتی شعبے پر کراس سبسڈی کی شکل میں ڈالے رکھا۔ حکومتی حلقوں میں کاروباری برادری کی چیخ وپکار کے بعد حکومت نے چھوٹے صارفین پر بتدریج بوجھ منتقل کرنا شروع کیا تو دسمبر 2025ء تک صنعتی شعبے کی بجلی کا اوسط فی یونٹ 46 روپے 31 پیسے پر آگیا جبکہ ٹیکسٹائل اور B-3 کنکشن کی حامل بڑی صنعتوں کیلئے ٹیرف 33 روپے 60 پیسے پر آچکا ہے۔ حکومت کے مطابق اس نے 123 ارب روپے کی کراس سبسڈی کا بوجھ بڑی صنعتوں سے ہٹا دیا ہے۔ اب گوہر اعجاز موجودہ 102 ارب روپے کی کراس سبسڈی کو ڈیتھ وارنٹ قرار دے رہے ہیں۔ حکومت نے سرکلر ڈیٹ ری سٹرکرکچرنگ کیلئے 1225 ارب روپے کے نئے معاہدے کیے ہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں ان قرضوں کے باعث بجلی بلوں میں شامل 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ کا ریلیف ملے گی۔
حکومتی اقدامات بجا صحیح لیکن سیلابوں اور خشک سالی کے باعث زرعی شعبے کی بے یقینی میں اضافے کے باعث اب کچھوے کی چال کے بجائے خرگوش کی دوڑ کی سپرٹ کے ساتھ صنعتی شعبے کو بچانا لازمی ہوگیا ہے اور جہاں تک تعلق ہے 102 ارب کی کراس سبسڈی کا بوجھ بڑی صنعتوں سے ہٹانے کے مطالبے کا تو اگر اس سے مزدور کا چولہا جلتا رہے اور صرف ٹیکسٹائل کی برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ بھی ہو جائے تو یہ گھاٹے کا سودا ہرگز نہیں ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں