وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے چھ ماہ میں آئی ایم ایف سے چھٹکارے کا انوکھا اور ناقابلِ یقین بیان دے کر صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے‘ جس کے بعد ملک کے کاروباری حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری سات ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے کے تحت پاکستانی انڈسٹری کے گرد جو گھیرا تنگ ہے‘ اس کے ٹوٹنے کے کتنے امکانات ہیں‘ جبکہ عام آدمی تو شاید اسے روایتی سیاسی بیان سے زیادہ حیثیت دینے کو فی الحال تیار نہیں ہے۔ امریکہ میں کئی برسوں سے مقیم ایک پاکستانی صحافی دوست سے اس بیان پر بات چیت ہوئی تو اُس نے کئی سوال اٹھا دیے جن میں سب سے اہم یہ تھا کہ وزیر دفاع کے اس بیان کے پیچھے کیا منطق ہو سکتی ہے اور اگر پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو ادھور چھوڑ کر نکل جاتا ہے تو ملکی معیشت اور عام پاکستانی کی صحت پر کیا اثر پڑے گا کیونکہ جب سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت ڈولتے دیکھی تھی تو آئی ایم ایف سے کیے وعدوں کو توڑا تواس کے بعد پاکستان پر ڈیفالٹ کے سائے منڈلانے لگے تھے۔ میرے صحافی دوست کا اصرار تھا کہ خواجہ آصف نے ہوا میں تیر چلایا ہے۔
اس صورتحال کے بعد اس بیان کے پیچھے منطق کی تلاش میں نکلنے پر جو انکشاف ہوئے‘ زمینی حقائق کی روشنی میں قارئین تک وہ اہم نکات لانا ضروری ہیں۔ وزیر دفاع کے بیان کے پیچھے جو پہلا سراغ ملا وہ پاکستان کے جنگی جہاز JF-17تھنڈر کی برآمد کے وہ سودے ہیں جن کے باعث ملک کے مالیاتی نظام میں بڑی اور مثبت تبدیلی کے امکانات نظر آتے ہیں۔ جنگی ساز و سامان کے لحاظ سے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سودا آذربائیجان سے چار ارب 60کروڑ ڈالر کا چالیس JF-17تھنڈر جنگی طیاروں کا ہے جس کی ڈلیوری شروع ہو چکی ہے‘ جس کی نمائش باکو کے آزادای سکوائر میں ہو چکی ہے۔ دوسرا بڑا معاہدہ لگ بھگ چار ارب ڈالر کا لیبیا کے ساتھ سامنے آرہا ہے جس میں سولہ JF-17تھنڈر اور 12سپر مشاق تربیتی جہاز شامل ہیں‘ اس کے علاوہ بھی جنگی سازوسامان ان سودوں کا حصہ ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ترکیہ کو بھی پاکستان نے ایم ایف آئی 395 کیٹیگری کے 52 طیارے فروخت کیے ہیں جبکہ سوڈان سے بھی تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے سودے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی ڈیل بنگلہ دیش سے بھی آخری مراحل میں ہے۔ بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ حسن محمود خان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران ان کی پاکستانی ہم منصب ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات اور بعد ازاں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی بات چیت کے نتیجے میں دو طرفہ فوجی تعان بڑھانے کی خبروں میں اہم نکتہ دفاعی سازو سامان کی خرید و فروخت سے متعلق ہی رہا اور اس میں بھی JF-17تھنڈر کو ہی اولیت حاصل رہی۔
دفاعی سازوسامان کی برآمدات کے سلسلے میں ایک اور بڑی ڈیل سعودی عرب سے بھی متوقع ہے جس کے تحت سعودی عرب پاکستان میں سیف ڈیپازٹس کے تحت رکھے اپنے تین ارب ڈالر سے JF-17تھنڈر اور دیگر دفاعی ساز و سامان خرید سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے اپنے دو ارب ڈار سیف ڈیپازٹس میں سے ایک ارب ڈالر فوجی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب اگر اس ساری صورتحال کو دیکھیں تو 2025ء میں 10ارب ڈالر کے سودے ہو چکے ہیں اور بنگلہ دیش‘ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے جاری بات چیت کو دیکھا جائے تو 2026ء میں یہ حجم 12سے 15ارب ڈالر تک بڑھتا نظر آتا ہے اور اس کی ٹھوس وجہ بھی ہے کیونکہ دفاعی ساز و سامان کی نمائش آئیڈیاز 2024ء میں پاکستان کے سامان کی خریداری کیلئے مختلف ممالک کے ساتھ 30ارب ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر سائن ہوئے تھے اور یاد رکھنا ہوگا کہ اُس وقت تک پاکستان کی بھارت سے جنگ نہیں ہوئی تھی اور JF-17تھنڈر کی اصل کارکردگی کا دنیا کو پتہ نہیں تھا اور نہ ہی دبئی کا حالیہ ایئرشو ابھی ہوا تھا جس میں بھارتی 'مایہ ناز‘ تیجس کی ناک زمین پر لکیریں نکالتی نظر آئی۔ JF-17تھنڈر کے بارے میں یہ بھی بتاتے چلیں کہ پاکستانی پائلٹس کی مہارت کے ساتھ اس جہاز نے مئی 2025ء کے معرکۂ حق میں بھارت کا ایس400 دفاعی میزائل سسٹم تباہ کیا جس کی صلاحیت یہ تھی کہ وہ 600کلومیٹر دور سے اپنی سرحدوں کی طرف آنے والے کسی جہاز یا میزائل کو ڈیٹیکٹ کرکے 400کلومیٹر کی رینج پر 17سے 20ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ سے آنی والے پروجیکٹائل کو تباہ کر سکتا ہے اور JF-17تھنڈر اور میزائل کی رفتار دو سے اڑھائی ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔
اس سے قبل کے پاکستان کے جنگی ساز و سامان کی برآمدات کے پاکستان کی مالیاتی ادائیگیوں کے توازن پر اثرات کا جائزہ لیا جائے یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ کیا پاکستان دنیا بھر میں اسلحے کی تجارت سے دنیا کو جنگوں کے دہانے تک پہنچانے میں حصہ ڈال رہا ہوگا یا اس کا کوئی اور مطلب بھی ہے؟ میرے خیال میں امریکی صدر ٹرمپ کی وینزویلا میں فوجی کارروائی کے تحت وہاں کے صدر مادورو کے اغوا کے بعد شاعرِ مشرق کا یہ مصرع آج کے عالمی حالات کی صحیح تصویر کشی ہے کہ ''ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘۔ مطلب یہ کہ اگر وینزویلا کا کوئی خوف امریکہ کے دل میں ہوتا تو وہ اس کارروائی سے پہلے سو بار سوچتا‘ جیسے وہ صدر شی جن پنگ اور صدر ولادیمیر پوتن بارے خواب میں بھی ایسی سوچ کو فیک نیوز قرار دیتا۔ ان حالات میں یہ کہنا اب درست ہی لگے گا کہ جنگی ساز و سامان اب صرف دفاع ہی نہیں بلکہ ڈیٹرنس (خوف) کیلئے ضروری ہو گیا اور دفاعی انڈسٹری اب ڈیٹرنس انڈسٹری کہلانے کی حقدار ہے کیونکہ دشمن کے تگڑے ہونے کا احساس کسی بھی طاقتور کو مہم جوئی سے روک سکتا ہے اور اسلحے کی فروخت جنگوں کے فروغ نہیں بلکہ روایتی جنگوں کے آگے بند باندھنے کیلئے ہو گی۔ اس منطق کے پیچھے ایک معتبر گواہی ایٹم بم کی بھی ہے جو جاپان کے بعد کبھی کہیں نہیں چلا لیکن اس کا خوف ان ملکوں پر جنگیں مسلط کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔
اب جائزہ لیتے ہیں پاکستان کی مالی ادائیگیوں کے توازن کا‘ گزشتہ مالی سال 25-2024ء میں پاکستان کی کل درآمدت 58 ارب ڈالر تھیں جبکہ برآمدات کا حجم 32 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح بین الاقوامی تجارت میں پاکستان کو 26 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔ اس خسارے کے مقابلے میں بیرونِ ملک مقیم لگ بھگ ایک کروڑ پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر پاکستان بھیجے جس سے پاکستان کے پاس 12 ارب ڈالر سرپلس ہو گئے۔ پاکستان کی اصل مشکل وہ 22 سے 24 ارب ڈالر ہیں جو ہر سال پاکستان کے 130 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں اور بین الاقوامی منڈی میں فروخت کیے گئے ڈالر بانڈز پر سود اور اصل زر کی ادائیگیوں کیلئے درکار ہوتے ہیں۔ اس رقم کا بندوبست کرنے کیلئے پاکستان کے سیاستدان‘ چاہے شہباز شریف ہوں یا عمران خان یا یوسف رضاگیلانی‘ مشکل ترین شرائط پر آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے پر مجبور ہوتے آئے ہیں۔ پاکستان کی ڈیٹرنس انڈسٹری کی سالانہ 10سے 12ارب ڈالر کی برآمدات اور ترسیلاتِ زر سے بچنے والے 12 ارب ڈالر مل کر بیرونی ادائیگیوں کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ شاید خواجہ آصف نے اسی تناظر میں دعویٰ کیا ہو کہ دفاعی برآمدات پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکال سکتی ہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ سابق نگران وزیر تجارت گوہر اعجاز اور سٹاک ایکسچینج کے پنڈت یہ سوچنے لگے ہیں کہ اگر ڈیٹرنس برآمدات 2026ء میں عملی صورت میں ڈھلتی ہیں تو پاکستان میں ڈالر کی قیمت اپنی فیئر ویلیو‘ 244 روپے نہ سہی 260 روپے تک نیچے گر سکتی ہے۔