"ZAM" (space) message & send to 7575

آبی جارحیت کا شاخسانہ

پاکستان نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر ایک نئے بجلی گھر کی تعمیر پر ایک بار پھر سرکاری طور پر شدید احتجاج کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستانی کمشنر سندھ طاس سید مہر علی شاہ نے اپنے بھارتی ہم منصب اشیش کمار پال سے انڈین میڈیا میں دول ہستی ٹُو بجلی گھر منصوبے سے متعلق شائع ہونے والی خبر پر وضاحت طلب کی ہے۔ ترجمان نے احتجاج کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کی ملکیت چناب‘ جہلم اور سندھ دریاؤں پر یکطرفہ طور پر کوئی منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ پاکستان کی طرف سے حالیہ دنوں میں یہ دوسرا احتجاج ہے‘ پہلا احتجاج گزشتہ ماہ کے شروع میں کیا گیا تھا جب بھارت نے اسی دریا پر قائم بگلیہار بجلی گھر کی جھیل میں پانی روک کر مرالہ بیراج کو خشک کردیا تھا۔ دوسرا احتجاج نئے سال کے پہلے روز ترجمان دفتر خارجہ کے ذریعے کیا گیا۔
بھارت نے جب سے اپریل 2025ء میں پہلگام واقعے کے بعد سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل (3/4)12 کی خلاف ورزی کرکے اس کو معطل کر رکھا ہے‘ پاکستان اقوام متحدہ میں مسلسل احتجاج کرتا چلا آرہا ہے مگر ہندوتوا فاشزم کے یرغمالی نریندر مودی کی بھارتی حکومت 10 مئی 2025ء کی عبرتناک شکست کے باوجود اسلام آباد کے احتجاج کو بظاہر خاطر میں نہیں لارہی۔ تو پھر پاکستان کے پاس کیا آپشنز باقی رہ جاتے ہیں؟ کیا پاکستان دول ہستی ٹُو منصوبے کو ایکٹ آف وار قرار دے کر بھارت پر جوابی وار کرے؟ یا پھر امن کا داعی ہونے کے ناتے جنگ کے بجائے معاہدے کے ضمانتی عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹائے ‘یا پھر کیس کو اقوام متحدہ یا عالمی عدالت انصاف میں لے جائے؟پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ نئے منصوبے پر پاکستان کی فکرمندی کی وجہ کیا ہے اور یہ منصوبہ ہے کیا؟
اصل دول ہستی بجلی گھر 2007ء سے آپریشنل ہے اور دریائے چناب پر 390میگاواٹ کے اس بجلی گھر کی تعمیر پر دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بڑا تنازع پیدا نہیں ہوا تھا۔ قبل اس کے کہ اس کی سٹیج ٹُو کی تفصیلات میں جائیں پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ چناب پر بھارت کے اس وقت کتنے بجلی گھر قائم ہیں؟ چناب پر پہلا 690میگاواٹ صلاحیت کا سلال بجلی گھر بنانے کی اجازت جنرل ضیاالحق اور بھارتی وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کے وزرا خارجہ آغا شاہی اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان معاہدے کے تحت 1978ء میں دی گئی تھی۔ اس کے بعد یہ منصوبہ ایک لمبے تنازع کے بعد 2007ء میں عالمی بینک کے نیوٹرل ایکسپرٹ کے فیصلے کی روشنی میں شروع ہوا۔ یہ تو تھے موجودہ بجلی گھر لیکن ان کے علاوہ بھی بھارت نے چناب پر پانچ ہزار میگاواٹ کے پانچ منصوبے بنا رکھے ہیں جن میں کوڑ‘ برسر‘ رتلے‘ پاکل دول اور کیرتھی شامل ہیں‘ لیکن دول ہستی ٹُو کو وہ نئے منصوبے کے بجائے پہلے سے موجود منصوبے کی توسیع قرار دے رہے ہیں۔ نئے منصوبے کی پلاننگ یہ ہے کے پہلے سے موجود بجلی گھر سے پیداوار کے بعد بہنے والے پانی کا رخ موڑ کر تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر لمبی سرنگ کے ذریعے نئے بجلی گھر کی جھیل تک لے جایا جائے گا اور زیر زمین پاور ہاؤس سے 260میگاواٹ بجلی بنا کر پانی دوبارہ چناب میں ڈال دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 3(4)(ڈی) کے تحت بھارت کو اصل دریائے چناب پر سٹوریج کیساتھ کوئی بجلی گھر بنانے کی اجازت نہیں ہے تاہم دریا کی معاون شاخوں پر وہ رن آف دی ریور بجلی گھر بنا سکتا ہے ‘لیکن اس کیلئے بھی شرط عائد ہے کہ تمام منصوبوں کیلئے جنرل سٹوریج کے طور پر پانچ لاکھ ایکڑ فٹ اور پاور سٹوریج کیلئے ان جھیلوں میں چھ لاکھ ایکڑ فٹ پانی سے زیادہ سٹوریج کبھی نہیں ہو گی۔ اب تک تعمیر کیے گئے بگلیہار‘ سلال اور پاکل دول کی جھیلوں میں ایکٹو سٹوریج 55ہزار ایکڑ فٹ ہے‘ یعنی بھارت اس مقدار سے زیادہ پاکستان کا چناب میں پانی روکنے کی فی الحال صلاحیت نہیں رکھتا۔
دول ہستی ٹُو کے بارے میں عمومی تفصیلات تو ہم نے بیان کردی ہیں لیکن اصل مسئلہ جو بھارتی حکومت کی وزارتِ ماحولیات‘ جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ڈالا‘ یہ ہے کہ اس نے سندھ طاس معاہدے کو نظر انداز کرکے اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 3(4)(ڈی) کے تحت پاکستان کے ملکیتی دریاؤں پرکسی بھی بھارتی منصوبے پر ریور ورکس شروع کرنے سے کم از کم تین ماہ قبل اس کے ڈیزائن اور دیگر تفصیلات پاکستان کمشنر سندھ طاس کوفراہم کرنا ضروری ہیں۔ بھارت کی طرف سے ایڈوانس انفارمیشن اور ڈیٹا ملنے کے بعد پاکستان ایک ماہ کے اندر اس بارے میں اپنی رائے دینے کا پابند ہے۔ اگر پاکستان کو کوئی بھی اعتراض ہو گا تو وہ اس بارے میں بھارتی کمیشن سے مزید تفصیلات کا کہہ سکتا ہے اور معاملہ کمیشن کی سطح پر حل ہونے تک کام شروع نہیں کیا جا سکتا (ماضی میں بھارت کشن گنگا اور بگلیہار کیسوں میں متعدد بار معاہدے کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے)۔ معاہدے کے تحت اگر پاکستان اور بھارتی کمشنر کسی اتفاقِ رائے پر نہیں پہنچ پاتے تو اگلے مرحلے میں پاکستان آرٹیکل 3(اے) کے تحت انڈیا کو کمیشن کی سطح پر مذاکرات کی ناکامی کو نوٹس دے دے گا۔ اگلے مرحلے میں معاہدے کے آرٹیکل 3(ایف) کا اطلاق ہو جائے گا جس کے تحت اگر پاکستان کو منصوبے کے ٹیکنیکل معاملات پر اعتراض؍ اعتراضات ہوں گے تو وہ عالمی بینک کو اختلافات کی شق کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ تعینات کرنے کی درخواست دے گا اور اگر اعتراض؍ اعتراضات کی نوعیت معاہدے کے قانونی پہلوؤں سے متعلق ہو گی تو عالمی بینک کو تنازع کی شق کے تحت ثالثی عدالت کی تشکیل کا کہا جائے گا۔ عالمی بینک کے دونوں فورمز پر فیصلوں کے بعد پاکستان اور بھارت کو ان فیصلوں پر عملدرآمد کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور مزید کسی فورم پر اپیل نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط 1960ء میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کراچی میں کیے تھے۔ سندھ طاس دنیا کا وہ واحد مثالی معاہدہ ہے جو 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں بھی برقرار تھا لیکن اب مصیبت یہ ہے کہ ہندوتوا کا قیدی فاشسٹ نریندر مودی گاندھی اور نہرو کے سیکولر انڈیا کو بحر ہند میں غرق کرنے پر تلا ہوا ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد اب کیا کرنا چاہیے‘ تو اس کیلئے معاہدے کے ضامن‘ عالمی بینک کی وہ دستاویز کا حوالہ دیتے ہیں جو اس نے 1960ء میں کلاسیفائیڈ کر دی تھی (ہمارے پاس کاپی موجود ہے)۔ اس دستاویز میں اُس وقت کے امریکہ صدر آئزن ہاور کا یہ جملہ بھی نقل کیا گیا ہے جو انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کے بعد ادا کیا تھا کہ: ''One bright spot in a very depressing world picture that we seen so often‘‘۔بھارت کے آنجہانی لیڈروں کے ساتھ آئزن ہاور کی روح بھی ضرور بے چین ہو گی کہ اگر انہیں مودی جیسے وزیراعظم کے آنے کا پتا ہوتا تو سندھ طاس معاہدے سے متعلق اتنا بڑا بیان نہ دیتے۔
گزشتہ کالم میں ہم نے پاکستان کے کھلے آپشنز کا ذکرکرتے ہوئے تجویز کیا تھا کہ اس کیس کو اب عالمی عدالت انصاف میں لے جانا بنتا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ آپشن بھی ہے کہ پاکستان دوبارہ عالمی بینک کی ثالثی عدالت میں اپنے زیر سماعت کشن گنگا اور رتلے کیسوں میں دول ہستی ٹُو کا کیس بھی لے جائے اور بھارت کے بائیکاٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی ایشیائی امن کے خطرے کے نکات کیساتھ کیس عالمی عدالت انصاف میں لے جائے جس کے فیصلے کی نافرمانی بھارت پر جنرل اسمبلی کے ذریعے تجارتی اور دیگر سخت پابندیوں کا دروازہ کھول سکتی ہیں‘ جس کا سنتے ہی مودی کی سیاست اور ہندوتوا فکر بھارت میں ہی دفن ہو جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں