بجٹ پر تاجروں کا ردعمل، چیمبر سفارشات نظرانداز کرنے کا الزام

 بجٹ پر تاجروں کا ردعمل، چیمبر  سفارشات نظرانداز کرنے کا الزام

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)صدر سرگودھا چیمبر آف کامرس خواجہ یاسر قیوم، صدر سمال چیمبر محمد حسن یوسف اور صدر مرکزی انجمن تاجران شہر و ضلع سرگودھا شیخ ندیم خاور نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کاروباری طبقے کی سفارشات اور تجاویز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے ۔

خواجہ یاسر قیوم نے کہا کہ سرگودھا چیمبر آف کامرس کی جانب سے ٹیکس اصلاحات، کاروباری آسانیوں اور صنعتوں کے فروغ کے حوالے سے متعدد سفارشات پیش کی گئی تھیں، تاہم بجٹ میں ان پر کوئی خاطر خواہ عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق موجودہ بجٹ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے بجائے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔صدر سمال چیمبر محمد حسن یوسف نے وفاقی بجٹ کو لفظوں کا ہیرا پھیرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلانات کے باوجود تاجروں، صنعتکاروں اور عام شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کاروباری لاگت کے باعث چھوٹے کاروبار شدید دباؤ کا شکار ہیں۔صدر مرکزی انجمن تاجران شیخ ندیم خاور نے کہا کہ یہ بجٹ دراصل ٹیکس وصولی کا منصوبہ ہے جس میں عوام اور تاجروں پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق گیس، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے ۔تاجر رہنماؤں نے توانائی بچت مہم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام کو بجلی بچانے کا درس دیا جا رہا ہے جبکہ سرکاری دفاتر میں بجلی کا بے دریغ استعمال جاری ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے تاجروں، صنعتکاروں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے ، توانائی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور معاشی پالیسیاں کاروباری طبقے کی مشاورت سے تشکیل دی جائیں تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو سکے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں