حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر جہلم کنارے بستیوں میں تشویش
حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر جہلم کنارے بستیوں میں تشویشمحکمہ انہار کی مبینہ غفلت ،مونا بھیرہ ڈرین جگہ جگہ جڑی بوٹیوں، جھاڑیوں،مٹی سے بھر چکی
بھیرہ (نامہ نگار)مون سون سیزن کی آمد کے باوجود دریائے جہلم کے کنارے آباد بستیوں کو ممکنہ سیلابی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے تاحال مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے جا سکے ، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق محکمہ انہار کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث مونا بھیرہ ڈرین جگہ جگہ جڑی بوٹیوں، جھاڑیوں اور مٹی سے بھر چکی ہے ، جس سے بارشوں کے دوران نکاسیٔ آب کا نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بھیرہ شہر کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا بھیرہ پروٹیکشن بند بھی متعدد مقامات پر ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی کا شکار ہے ۔ اگر اس کی فوری مرمت نہ کی گئی تو شہری آبادی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مون سون بارشوں یا دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہونے کی صورت میں حفاظتی انتظامات کے فقدان کے باعث قریبی دیہات، زرعی اراضی اور شہری آبادی متاثر ہو سکتی ہے ۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر سرگودھا اور اسسٹنٹ کمشنر بھیرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ انہار کی مبینہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے اور مونا بھیرہ ڈرین کی صفائی، پروٹیکشن بند کی مرمت سمیت دیگر ضروری حفاظتی اقدامات مون سون سیزن سے قبل مکمل کرائے جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے ۔