پمپوں پر سمگل شدہ فیول کی ملاوٹ،پیمائش میں کمی کے الزامات
پمپوں پر سمگل شدہ فیول کی ملاوٹ،پیمائش میں کمی کے الزاماتمتعلقہ محکموں کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے باعث خزانے کو بھی بھاری نقصان
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) ضلع بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت کا بڑا حصہ مبینہ طور پر سمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی ملاوٹ کے ساتھ فروخت کیے جانے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ اوزان و پیمائش اور پٹرول پمپوں کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے باعث متعدد پٹرول پمپوں پر کم قیمت ایرانی سمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل کو قانونی مصنوعات میں ملا کر فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، جس سے نہ صرف صارفین کو معیار کے حوالے سے نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ضلع سرگودھا میں ساڑھے تین سو سے زائد پٹرول پمپ مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے قانونی معاہدوں کے تحت پیٹرولیم مصنوعات حاصل کرتے ہیں۔
تاہم بعض عناصر مبینہ طور پر غیر قانونی فیول کو ملا کر ناجائز منافع کما رہے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق ریکارڈ کو درست ظاہر کرنے اور کارروائی سے بچنے کے لیے بعض پمپ مالکان نجی ماہر افراد کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں، جو سپلائی اور فروخت کے ریکارڈ کو ترتیب دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔تشویشناک امر یہ ہے کہ مانیٹرنگ اداروں کی بعض رپورٹس میں سرگودھا ریجن کے متعدد پٹرول پمپوں پر سمگل شدہ تیل کی فروخت کے خدشات ظاہر کیے جا چکے ہیں، تاہم مؤثر اور مستقل کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض پٹرول پمپوں پر ڈیجیٹل فیول ڈسپنسرز میں تکنیکی ردوبدل کے ذریعے پیمائش میں کمی کی شکایات بھی عام ہیں، ماہرین کے مطابق جدید انسپکشن، مؤثر مانیٹرنگ اور شفاف آڈٹ کے بغیر ان خرابیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے پٹرول پمپوں کی جامع جانچ پڑتال کریں۔