محکمہ زراعت فیلڈ سٹاف کی کمی، منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ

محکمہ زراعت فیلڈ سٹاف کی کمی، منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ

محکمہ زراعت فیلڈ سٹاف کی کمی، منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، زراعت افسران،فیلڈ اسسٹنٹس سمیت 100 اسامیاں خالی

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)محکمہ زراعت پنجاب میں فیلڈ سٹاف کی مسلسل کمی کے باعث کسانوں کی رہنمائی اور زرعی ترقی کے لیے شروع کیے گئے مختلف حکومتی منصوبوں کی بروقت تکمیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق سرگودھا ڈویژن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، زراعت افسران اور فیلڈ اسسٹنٹس سمیت تقریباً 100 آسامیاں خالی ہیں۔ ان اسامیوں پر تعیناتیاں نہ ہونے کے باعث کسانوں تک جدید زرعی معلومات، حکومتی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بروقت نہیں پہنچ پا رہیں۔زرعی ماہرین کے مطابق فیلڈ سٹاف کسانوں کو نئی زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیجوں کے استعمال، کھادوں کے مؤثر استعمال، پانی کی بچت اور حکومتی سبسڈی پروگراموں سے متعلق آگاہی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ، تاہم عملے کی کمی کے باعث یہ سرگرمیاں مطلوبہ سطح پر انجام نہیں دی جا رہیں۔کاشتکار حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد حکومتی زرعی منصوبوں کے فوائد دیہی علاقوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچ رہے ، جس کی وجہ سے کسانوں کو تکنیکی رہنمائی اور معلومات کی کمی کا سامنا ہے ۔ اس صورتحال سے زرعی پیداوار میں اضافے اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے حکومتی اہداف بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔زرعی ماہرین نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں۔

 فیلڈ سٹاف کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے اور کسانوں تک معلومات کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ زرعی ترقی کے منصوبوں کے ثمرات براہِ راست کاشتکاروں تک پہنچ سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں