پنجاب ٹورازم اینڈ اکنامک گروتھ منصوبہ عملی پیش رفت سے محروم
پنجاب ٹورازم اینڈ اکنامک گروتھ منصوبہ عملی پیش رفت سے محرومفنڈز اور ذمہ داریوں کے واضح تعین نہ ہونے کے باعث کام متاثر ، عمارتوں کی بری حالت
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)ڈویژنل ہیڈکوارٹر سرگودھا میں سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ‘‘پنجاب ٹورازم اینڈ اکنامک گروتھ’’ منصوبہ تاحال عملی پیش رفت سے محروم دکھائی دیتا ہے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور ورلڈ بینک کے اشتراک سے شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد تاریخی و ثقافتی ورثے کا تحفظ، سیاحتی مقامات کی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مقامی معیشت کو فروغ دینا تھا۔تاہم منصوبے کے لیے فنڈز اور ذمہ داریوں کے واضح تعین نہ ہونے کے باعث رواں مالی سال میں زیادہ تر سرگرمیاں محض اعلانات اور سرکاری دوروں تک محدود رہیں۔ ابتدائی مرحلے میں تاریخی مقامات کی نشاندہی، دستاویزی ریکارڈ کی تیاری اور بحالی کے اقدامات کیے جانے تھے ، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود عملی پیش رفت شروع نہ ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی وسائل اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے تعین میں تاخیر کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہے ۔ اس دوران مختلف سرکاری افسران نے تاریخی مقامات کے دورے اور بحالی کے اعلانات تو کیے ، تاہم زمینی سطح پر کوئی نمایاں کام سامنے نہیں آ سکا۔
نئے مالی سال میں بھی منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے واضح لائحہ عمل سامنے نہ آنے پر خدشات برقرار ہیں۔دوسری جانب سرگودھا ڈویژن کے کئی تاریخی و ثقافتی مقامات بدستور خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بحالی کے اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتی تاریخی ورثہ مزید نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے ۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے لیے فنڈز اور ذمہ داریوں کا فوری تعین کیا جائے ، عملی اقدامات شروع کیے جائیں اور تاریخی ورثے کے تحفظ کو ترجیح دی جائے تاکہ سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی بہتری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔