مصنوعی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی
مصنوعی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی شہر میں کوئی پرسانِ حال نہیں اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں پر غیر فعال ہو چکیں
میانی( نامہ نگار )میانی میں مہنگائی کا طوفان بے قابو، سرکاری ریٹ لسٹیں ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گئی ۔میانی اور گردونواح میں مصنوعی مہنگائی کے طوفان نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ شہر میں کوئی پرسانِ حال نہیں اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں۔ دکانداروں اور منافع خوروں نے سرکاری نرخ ناموں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے اپنی من مانیاں شروع کر دی ہیں۔شہر بھر میں اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چکن کا سرکاری ریٹ 475 روپے مقرر کیا گیا ہے لیکن مارکیٹ میں مرغی کا گوشت 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے ۔ اسی طرح بیف (بڑے گوشت) کا سرکاری ریٹ 900 روپے کے بجائے 1200 روپے وصول کیا جا رہا ہے جبکہ مٹن 2400 روپے فی کلو بیچا جا رہا ہے ۔ سردی کی آمد کے ساتھ ہی انڈوں کی قیمت میں بھی من مانا اضافہ کر دیا گیا ہے اور 240 روپے والی درجن 300 روپے میں فروخت ہو رہی ہے سبزی اور ڈیری کی دکانوں پر بھی لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ سرکاری ریٹ لسٹ میں پیاز 190 روپے فی کلو ہے مگر دکاندار اسے 250 روپے فی کلو بیچ رہے ہیں، جبکہ ٹماٹر کی قیمت 400 روپے کلو تک جا پہنچی ہے ۔ اسی طرح دہی 250 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments