رینٹ اے کار دفاتر کا رجسٹر یشن کے بغیر کام، گاڑیوں کے جرائم میں استعمال ہونے کا خدشہ
ماضی میں کرائے پر حاصل کی گئی گاڑیوں کے سنگین وارداتوں میں استعمال ہونے کے واقعات سامنے آچکے ہیں رینٹ اے کار کاروبار کی مؤثر نگرانی اور گاڑیوں کے ریکارڈ کا مکمل نظام ناگزیر ہوچکا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں متعدد رینٹ اے کار دفاتر کی مبینہ طور پر رجسٹریشن اور کسی باقاعدہ یونین کے بغیر ہی کام کرنے کی اطلاعات نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر جہاں سوالیہ نشان لگا دیا ہے وہاں کرائے پر دی جانے والی گاڑیوں کے استعمال کا مؤثر ریکارڈ موجود نہ ہونے کی صورت میں ان گاڑیوں کے جرائم میں استعمال ہونے اور بعد ازاں ملزمان تک پہنچنے میں مشکلات کا خدشہ بڑھ گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں کرائے پر حاصل کی گئی گاڑیوں کے سنگین وارداتوں میں استعمال ہونے کے واقعات سامنے آچکے ہیں اور مختلف تھانوں میں ایسے معاملات کے مقدمات بھی درج ہوئے ، جس کے بعد رینٹ اے کار کاروبار کی مؤثر نگرانی اور گاڑیوں کے ریکارڈ کا مکمل نظام ناگزیر ہوچکا ہے ۔
ذرائع کے مطابق سابق ڈی پی او سرگودھا اسد اعجاز ملہی کے دور میں ڈی پی او آفس کی سطح پر رینٹ اے کار گاڑیوں کے لیے آن لائن نظام متعارف کرایا گیا تھا، جس کے ذریعے گاڑی کرائے پر لینے والے شخص، گاڑی اور کرایہ پر دینے والے دفتر کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا تھا، جس سے پولیس کو کسی واردات کی صورت میں گاڑی اور صارف تک رسائی میں مدد ملتی تھی اور اس نظام کے فعال ہونے سے جرائم کی روک تھام میں بھی بہتری آئی تھی، تاہم اب مذکورہ آن لائن نظام غیر فعال ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ شہریوں نے ڈی پی او سرگودھا توقیر محمد نعیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں قائم تمام رینٹ اے کار دفاتر کی مکمل جانچ پڑتال کرکے انہیں لازمی رجسٹریشن کے دائرے میں لایا جائے ، بغیر رجسٹریشن کاروبار کرنے والے دفاتر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور سابقہ آن لائن نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ ہر کرائے کی گاڑی، اسے فراہم کرنے والے دفتر اور استعمال کرنے والے فرد کا مکمل ریکارڈ دستیاب رہے اور کسی بھی گاڑی کے جرائم میں استعمال ہونے کی صورت میں پولیس فوری طور پر ذمہ دار افراد تک پہنچ سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments